بارہویں قسط سفر کنڈہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

نور الاسلام کنڈہ کے محسن اور یکے
از سرپرست جن کا تذکرہ رہ گیا تھا

*طارق شفیق ندوی*
*لکچرر میاں صاحب انٹر کالج گھورکھ پور*

گیارھویں قسط میں راقم الحروف نے *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ قیام اور پس منظر* کے حوالے سے مدرسہ کے بانیوں میں سے حاجی یوسف صاحب مرحوم اور منیجر جبار حسین مرحوم کا تذکرہ کیا تھا کہ انہیں دو حضرات کی کوششوں سے اس ادارہ کا ندوہ سے الحاق ہوا اور پھر اس مدرسہ نے علاقہ میں
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رھبانی کا کام کیا

لیکن گیارہویں قسط پوسٹ کرنے کے بعد کنڈہ اور مانک پور کے بعض قارئین کا یہ پیغام موصول ہوا کہ مدرسہ کے بانیوں سرپرستوں اور مشیروں میں سے ایک انتہائی اہم شخصیت کا تذکرہ رہ گیا ہے جن سے خود حاجی محمد یوسف صاحب اور منیجر جبار ح


سین صاحب مشورہ لیا کرتے تھے اور اصل میں وہی ندوہ سے اس ادارہ کے الحاق کا ذریعہ بنے اور کنڈہ اور مانک پور بلکہ پرتاپگڑھ اور فتح پور وغیرہ اضلاع میں جنہوں نے دعوت و تبلیغ کے لئے سر دھن کی بازی لگا دی وہ شخصیت تھی حکیم مولانا نور الدین صاحب علیگ کی ۔ جن کے کئ صاحبزادے اور پوتے و نواسے ندوی ہیں اور علاقہ میں خدمت علم و دین انجام دے رہے ہیں ۔

حکیم سید نور الدین صاحب کے بڑے صاحبزادے حکیم محمد قاسم صاحب ندوی علیگ ہیں جو طبیہ کالج لکھنئو میں لکچرر تھے ڈاکٹر عیسی ندوی اور مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کے کلاس ساتھی تھے ۔ پروگرام کے دن حکیم سید نور الدین صاحب رح کے دو نواسے مولانا سفیان فیصل ندوی اور سید سلمان فاروق حسینی بھی موجود تھے ۔ میرے فاضل دوست مولانا محمد قمرالزماں ندوی نے فون کے ذریعے سے بتایا کہ مولانا حکیم سید نور الدین صاحب مانک پور (متوفی 1984ء) کے پوتے مولانا سید وصی الدین یاسر ندوی مہتمم جامعہ عربیہ تعلیم القرآن مانک پور پرتاپگڑھ نے یاد دہانی کرائ ہے کہ مدرسہ کے بانیوں میں سے مولانا حکیم نور الدین صاحب رح کا تذکرہ چھوٹ گیا ہے اس لئے آپ جناب طارق شفیق ندوی صاحب کو یاد دلا دیں کہ ان کا بھی ذکر خیر کردیں ۔
مولانا قمرالزماں ندوی نے مولانا حکیم سید نور الدین صاحب کی زندگی کا مختصر تعارف و تذکرہ*تذکرہ علماء پرتاپگڑھ* مصنف محمد پرتاپگڑھی سے نقل کرکے بھی بھیج دیا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا سید نور الدین صاحب علیگ جن کے حضرت مولانا سے گہرے روابط اور تعلقات تھے بلکہ اوپر کی شاخوں میں جاکر خاندانی روابط تھے اور جو علاقہ کے مصلح اور مبلغ تھے ان کا مختصر تعارف و تذکرہ مذکورہ کتاب کے حوالے سے نقل کردوں ۔

مولانا حکیم سید نور الدین صاحب رح ماہر نباض حاذق طبیب اور خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ وہ کڑہ مانک پور کی آخری یاد گار اور آخری کڑی تھے ۔ ان کے جد امجد حضرت شاہ قطب الدین محمد الحسنی رح ہیں، ان کے بارے میں صاحب تذکرہ علماء ہند کے مصنف لکھتے ہیں :
مولانا سید محمد الحسنی کا سلسلہ نسب حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ سلطان التمش کے زمانہ میں غزنین سے دہلی آئے اور وہاں سے موضع کرا قصبہ ہنسوہ کے پاس آکر مقیم ہوگئے ۔ وہ بستی کرا سادات کے نام سے مشہور ہے ۔ پھر وہاں سے غزوہ اور جہاد کے لئے موضع کڑا گنگا کے کنارے موضع مانک پور کے سامنے رونق افروز ہوئے ۔ راجہ جے چند سے آپ کی لڑائی ہوئ اور آپ غالب رہے ۔ سید احمد شہید بریلوی رح شاہ علم اللہ اور مولانا سید امین صاحب نصیر آبادی وغیرہ بھی حضرت ہی کے خاندان کی ایک شاخ سے ہیں ،جو بعد میں رائے بریلی اور نصیر آباد میں جاکر مقیم ہوئے تھے ۔ حکیم مولانا نور الدین صاحب کے والد کا نام سید حمید الدین تھا ۔ آپ کی پیدائش 17/دسمبر 1921 مطابق / 11 / محرم الحرام 1340ھجری ہے ۔
ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول میں حاصل کی اور اعلی تعلیم فرنگی محل لکھنئو میں حاصل کی۔ اور وہیں سے سند فراغت حاصل کی ۔ وہاجیہ طبیہ کالج میں طب کی متداولہ کتابیں پڑھیں ۔بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سٹی سے ایم ڈی کا کورس بھی مکمل کیا ۔
آپ عظیم مجاہد آزادی بھی تھے تحریک آزادی کے زمانے میں تقریبا چھ مرتبہ جیل گئے اور سنت یوسفی ادا کیا ۔ راہ معرفت و سلوک طے کرنے کے لئے آپ بیعت امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنئوی کے دست حق پر ہوئے ۔ آپ نے علاقہ میں اصلاح و تبلیغ کا زبردست کام کیا اور خلق خدا کو خوب نفع پہنچایا ۔ ان سب کے علاوہ آپ ایک ماہر نباض حاذق طبیب تھے اور اس کا شہرہ دود دور تک تھا ۔ اس میدان میں حکیم عبد اللطیف صاحب سلطان پوری رح آپ کے خاص شاگرد تھے ۔ مولانا حکیم سید نور الدین صاحب ہفتہ میں ایک دن سلطان پور میں بیٹھتے تھے تو مہینہ کی پہلی تاریخ کو بمبئ میں ۔ آپ کا انتقال 11/ نومبر 1984 ۶ مطابق 16 صفر المظفر 1405 ھجری میں ہوا ۔
(مستفاد تذکرہ علماء پرتاپگڑھ صفحہ 178)