ایسی چنگاری بھی یا رب! اپنی خاکستر میں ہے

*قدرت اللہ شہاب* مشہور اردو ادیب صاحب قلم گزرے ہیں ۔ ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان سول سرویسز کے باوقار عہدے پر بھی فائز رہے، اس سے قبل ضلع جھنگ کے سابق ڈپٹی کمشنر بھی رہے ، بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک تھے اللہ تعالی نے حساس دردمند اور ڈھرکتا دل دیا تھا افراد کو پرکھنے اور ان کی نفسیات کو سمجھنے کی بے پناہ قدرت اور صلاحیت تھی، ایک طرح سے یہ کہا جائے کہ قدرت نے ایمانی فراست سے بھر پور نوازا تھا

انتہائی ایمان دار اور مالیات و معاملات میں انتہائی شاف و شفاف شبیہ رکھتے تھے جس بڑے عہدے پر فائز تھے اگر چاہتے تو جائز طریقے سے بھی بہت کچھ جائداد اور کوٹھی بنا لیتے لیکن حکومت کی مالی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا اور اپنی جائز اور واجبی تنخواہ کے علاوہ ایک پائ بھی حکومت سے نہیں لیا ۔
غلام محمد سابق جنرل گورنر پاکستان کے پرائیوٹ سکریٹری رہے اور اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے زمانے میں بھی آپ اس عہدے پر فائز رہے ۔ فروری بروز جمعہ ۱۹۲۰ء آپ کی تاریخ پیدائش ہے اور تاریخ وفات ۲۴/ جولائی ۱۹۸۶ ء آپ کی تاریخ وفات ہے ۔ آپ کی شہرت آپ کی بے مثال و بے نظیر کتاب شہاب نامہ کی وجہ سے بھی ہوئ اس کتاب کے بارے میں، میں کہہ سکتا ہوں کہ اردو کی چند مشہور کتابوں کی فہرست بنائ جائے تو اس کتاب کا شمار بھی سر فہرست ہوگا ۔ یہ کتاب بارہ ابواب پر مشتمل ہے پہلا باب جموں میں پلیگ اور آخری باب چھوٹا منھ بڑی بات ہے ۔ یہ قدرت شہاب کا روز نامچہ یا یہ کہئے کہ روزانہ کی ڈائری ہے جو ۱۹۳۸ء سے آپ نے پابندی سے لکھنا شروع کیا تھا،جس میں روزانہ کے واقعات و مشاہدات اور تجربات کو آپ رات میں پابندی سے ڈائری پر لکھتے تھے ۔

آپ کی وفات سے چند دن قبل ۱۹۸۶ء میں اس کتاب کا پہلا ایڈیش شائع ہوا اور پھر اس کے بعد تو ؟
حال میں یہ کتاب دہلی سے بھی شائع ہوئ ہے ہر صاحب علم و ذوق کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے افسوس کہ اس وقت میرے پاس اور کتب خانہ میں بھی یہ کتاب نہیں ہے پرانی یاد داشت پر یہ سب کچھ لکھ دیا ہوں ۔ کچھ دنوں پہلے میرے مخلص اور کرم فرما سعید فیضی صاحب (مقیم کناڈا) نے ممکن ہے بلکہ یقین ہے کہ میری اصلاح کی غرض سے اس کتاب سے ایک واقعہ جس میں نصیحت و عبرت کے لئے بہت کچھ ہے مجھے پوسٹ کیا تھا مناسب معلوم ہوا اور دل چاہا کہ آج کے پیغام میں محترم موصوف کے پوسٹ کو من و عن آپ قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کر دوں ۔ م ق ر

ضلع جھنگ کے ایک سابق ڈپٹی کمشنر قدرت اللہ شہاب اپنی آپ بیتی’’ شہاب نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں:۔

ایک روزجھنگ کے ایک پرائمری سکول کا استاد رحمت الٰہی میرے دفتر میں آیا۔ وہ چند ماہ کے بعد ملازمت سے ریٹائرہونے والا تھا۔ اس کی تین جوان بیٹیاں تھیں‘ رہنے کیلئے اپنا گھر بھی نہ تھا۔ پنشن نہایت معمولی ہوگی‘ اسے یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کہاں رہے گا۔ لڑکیوں کی شادیاں کس طرح ہوں گی‘ کھانے پینے کا خرچ کیسے چلے گا۔ اس نے مجھے سرگوشی میں بتلایا کہ پریشانی کے عالم میں وہ کئی ماہ سے تہجد میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریادیں کرتا رہا ہے۔ چند روز قبل اسے خواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی جس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم جھنگ جاکر ڈپٹی کمشنر کو اپنی مشکل بتاؤ‘ اللہ تمہاری مدد کرےگا۔پہلے تو مجھے شک ہوا کہ یہ شخص ایک جھوٹا خواب سنا کر مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش کررہا ہے میرے چہرے پر شک اور تذبذب کے آثار دیکھ کر رحمت الٰہی آبدیدہ ہوگیا اور بولا جناب میں جھوٹ نہیں بول رہا‘ اگر جھوٹ بولتا تو شاید خدا کےنام پرتو بول لیتا لیکن حضور نبی کریم ﷺ کے نام پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں‘ اس کی اس منطق پر میں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ آپ نے سنا نہیں کہ ’’باخدا دیوانہ وبامصطفیٰ ہشیار باش‘‘ یہ سن کر میرا شک پوری طرح رفع تو نہ ہوا لیکن سوچا کہ اگر یہ شخص غلط بیانی سے بھی کام لے رہا ہے تو ایسی عظیم ہستی کے اسم مبارک کا سہارا لے رہا ہے جس کی لاج رکھنا ہم سب کافرض ہے۔ چنانچہ میں نے رحمت الٰہی کو تین ہفتوں کے بعد دوبارہ آنے کیلئے کہا۔ اس دوران میں نے خفیہ طور پر اس کے ذاتی حالات کا کھوج لگایا اور یہ تصدیق ہوگئی کہ وہ اپنے علاقے میں نہایت سچا‘ پاکیزہ اور پابند صوم و صلوٰۃ آدمی مشہور ہے اور اس کے گھریلو حالات بھی وہی ہیں جو اس نے بیان کیے تھے۔
اس زمانے میں کچھ عرصہ کیلئے صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنروں کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ سرکاری بنجر زمین کے آٹھ مربع تک ایسے خواہش مندوں کو طویل میعاد پر دے سکتے تھے جو انہیں آباد کرنے کیلئے آمادہ ہوں۔ میں نے اپنے مال افسر غلام عباس کو بلا کر کہا کہ وہ کسی مناسب جگہ کراؤن لینڈ کے ایسے آٹھ مربع تلاش کرے جنہیں جلدازجلد کاشت کرنے میں کوئی خاص دشواری پیش نہ آئے۔ مال افسر نے غالباً یہ سمجھا کہ شاید یہ اراضی میں اپنے کسی عزیز کو دینا چاہتا ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پکی سڑک کے قریب نیم آباد سی زمین ڈھونڈ نکالی اور رحمت الٰہی کے نام الاٹمنٹ کی ضروری کارروائی کرکے سارے کاغذات میرے حوالے کردئیے۔دوسری پیشی پر جب رحمت الٰہی حاضر ہوا تو میں نے یہ نذرانہ اس کی خدمت میں پیش کرکے اسے مال افسر کے حوالے کردیا کہ یہ قبضہ وغیرہ دلوانے اور باقی ساری ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کرے‘ تقریباً 9 برس بعد میں کراچی میں فیلڈمارشل جنرل ایوب کے ساتھ کام کررہا تھا کہ ایوان صدر میں میرے نام ایک رجسٹرڈ خط موصول ہوا (اس زمانے میں پاکستان کا صدر مقام اسلام آباد کی بجائے کراچی تھا)۔یہ ماسٹر رحمت الٰہی کی جانب سے تھا کہ اس زمین پر محنت کرکے اس نے تینوں بیٹیوں کی شادی کردی ہے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم آباد ہیں۔ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ فریضہ حج بھی ادا کرلیا ہے‘ اپنے گزارے اوررہائش کیلئے تھوڑی سی ذاتی زمین خریدنے کے علاوہ ایک کچا کوٹھا بھی تعمیر کرلیا ہے۔

اسی خوشحالی میں اب اسے آٹھ مربعوں کی ضرورت نہیں‘ چنانچہ اس الاٹمنٹ کے مکمل کاغذات اس خط کے ساتھ واپس ارسال ہیں تاکہ کسی اور حاجت مند کی ضرورت پوری کی جاسکے۔ یہ خط پڑھ کر میں کچھ دیر کیلئے سکتے میں آگیا‘ میں اس طرح گم سم بیٹھا تھا کہ صدر پاکستان کوئی بات کرنے کیلئے میرے کمرے میں آگئے ’’کس سوچ میں گم ہو‘‘ انہوں نے حالت بھانپ کر پوچھا‘ میں نے انہیں رحمت الٰہی کا سارا واقعہ سنایا تو وہ بھی نہایت حیران ہوئے‘ کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر وہ اچانک بولے۔ تم نے بہت نیک کام سرانجام دیا ہے۔ میں گورنر کو لاہور ٹیلیفون کردیتا ہوں کہ وہ یہ اراضی اب تمہارے نام کردیں‘ میں نے نہایت لجاحت سے گزارش کی کہ یہ میں اس انعام کا مستحق نہیں ہوں یہ سن کر صدر پاکستان بولے کہ تمہیں زرعی اراضی حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ’’جی نہیں سر‘‘ میں نے التجا کی۔ آخر میں فقط دو گز زمین ہی قبر کیلئے کام آتی ہے‘ وہ کہیں نہ کہیں‘ کسی نہ کسی طرح سے مل ہی جاتی ہے۔

محترم قارئین باتمکین !
اس واقعہ کے پانچوں کردار آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن جھنگ کے ایک پرائمری ٹیچر رحمت الٰہی کا کردار ہم سب کیلئے منارہ نور ہے۔

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور لاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی

اپنا تبصرہ بھیجیں