اہل اللہ کی صحبت کا فائدہ چھٹی قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

چھٹی قسط

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*ایک عام غلط فہمی* لوگوں میں حتی کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں میں خصوصا نوجوان نسل اور فارغین مدارس میں یہ پائ جاتی کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ اب تو اس زمانے میں اہل اللہ بزرگان دین اور طبقئہ صادقین ہے ہی نہیں بلکہ کہ سب کا حال یکساں ہے، کمیاں اور خامیاں سب کے یہاں ہیں، جیسے ہمارے اندر ویسے ان کے اندر بھی (بلکہ بعض تو یہاں تک جرآت کر بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس حمام میں تو سب ننگے ہیں) تو ہم کن سے رجوع کریں ؟ہم کن سے تعلق جوڑیں ۔ آج کل شیخ کامل اور اچھے مرشد نہیں ملتے غرض لوگ کہتے ہیں ہم کہان اور کس کے پاس جائیں اور کن سے تعلق جوڑیں؟ ۔ مگر یہ بات اور یہ اعتراض نص قرانی اور از روئے شرع درست نہیں ہے یہ اللہ تعالی پر ایک طرح کا الزام ہے کیونکہ قرآن مجید تو یہ کہتا ہے : کہ
*یا ایھا اللذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین*

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور عمل میں سچوں کے ساتھ رہو ۔
اس آیت کریمہ سے یہ بات اور یہ حقیقت واضح ہے کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالی ایسے صادقین کو پیدا فرماتے رہیں گے، وگر نہ اللہ تعالی کا بندے سے ایسی چیز کا مطالبہ جس کا وجود اس کے کارخانئہ قدرت میں نہ ہو ،۰۰ تکلیف مالا یطاق ۰۰ ہے جس سے اس کی ذات بڑی ہے ۔ جس کی شہادت اس آیت کریمہ سے ہوتی ہے کہ *لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا* اللہ تعالی کس متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ۔
اس لئے ماننا پڑے گا اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر زمانے میں اور ہر دور اور عہد میں صادقین و کاملین کا ہونا ضروری ہے تاکہ لوگوں کو ان کی صحبت و ہمنشینی کا شرف حاصل ہوتا رہے جس سے اللہ تعالی کی یاد ائے، آخرت کا استحضار پیدا ہو، دنیا کی محبت کم ہو اور آخرت کی فکر بڑھے اور خدا کی پکڑ کا احساس ہوتا رہے ۔ اگر کوئ ان اللہ والوں، مشائخ اور بزرگوں کو نہ جان سکے نہ پہچان سکے نہ تلاش کرسکے تو یہ اس کی کم نگاہی ہے ۔ فراست کی کمی ہے اور طبیعت کی سہل انگاری کا کرشمہ ہے اس میں قانون قدرت کا کوئ قصور نہیں ۔
ہم میں سے کوئ بیمار ہوتا ہے، بستر مرض پر پڑ جاتا ہے تو وہ کسی طبیب اور ڈاکٹر و حکیم کے پاس علاج کے ضرور جاتا ہے ۔ ایسے بیمار و مریض سے کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا گیا کہ صاحب! آج کل کے طبیب اور ڈاکٹر اچھے نہیں ہیں ۔ اس لئے مجھے اسی مرض میں رہنے دو مجھے اسی حالت پر چھوڑ دو ۔ میں کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا ۔ میں کسی سے علاج نہیں کراتا ۔ تو جب لوگ اپنے امراض جسمانی میں اپنے زمانے کے ڈاکٹروں اور حکیموں سے رجوع کرتے ہیں اور شفا پاتے ہیں تو کیا روحانی امراض کے لئے روحانی طبیبوں اور معالجوں سے ربط و تعلق پیدا کرکے ان امراض سے نجات نہیں پائیں گے؟ یقینا پائیں گے اور ڈھونڈھنے والوں کو ایسے معالج مل رہے ہیں ۔ بس شرط ہے کہ ہمارے اندر فکر ہو ،اس بیماری کا احساس بھی ہو اس مرض کو مرض سمجھیں بھی ۔ اور یہ خیال ہر آن ہو کہ روح کی بیماری جسم کی بیماری سے زیادہ مہلک اور خطر ناک ہے۔
(مستفاد باتیں ان کی یاد رہیں گی ملفوظات مولانا حکیم اختر صاحب رح مرتبہ مولانا محمد رضوان القاسمی رح )

مولانا حکیم اختر صاحب رح نے ایک دفع *کونوا مع الصادقین* کہ ہو جاو صادقین کے ساتھ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا تھا :
*لوگ کہا کرتے ہیں کہ اب تو صادقین رہے ہی نہیں، ہم کن سے تعلق جوڑیں یہ غلط بات ہے ۔ دیکھئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ کونوا مع الصادقین ہوجاو صادقین کے ساتھ ۔ یہ حکم ایک دو دن اور ایک دو ہفتہ کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لئے ہے ۔ اس کو اس طرح سمجھئے کہ اگر کوئ باپ اپنے گھر میں تمام لڑکوں پر حکم لگا دے کہ روزانہ سب لوگ آدھا لیٹر دودھ پیا کرو تو یہ حکم لگا دینے کے بعد باپ ہی کا ذمہ بھی ہے کہ وہ سب کے لئے آدھا لیٹر دودھ کا روزانہ انتطام کرے ۔ اگر روزانہ دودھ کا انتظام نہ کرے گا تو باپ جھوٹا ثابت ہوگا ۔ اسی طرح اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ صادقین کے ساتھ ہوجاو جب اللہ تعالٰی فرما رہے ہیں تو ان کے ہی ذمہ صالحین اور صادقین کا پیدا کرنا بھی ہے ،تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ ہی کہیں کہ صادقین کے ساتھ ہو جاو اور صادقین کو پیدا نہ کریں ۔ جس طرح وہ باپ اپنے بچوں کو دودھ پینے کا حکم لگانے کے بعد اگر دودھ کا انتظام نہ کرے تو جھوٹا ثابت ہوگا ،اسی طرح نعوذ باللہ، اللہ تبارک و تعالٰی کے اوپر بھی یہ بات صادق آئے گی ۔ اس قسم کی بات کرنے والے کہ صادقین اب نہیں رہے قرآن پاک کو جھٹلاتے ہیں ۔ اب خود فیصلہ کر لیجئے کہ کلام پاک کس کا کلام ہے ۔ گویا کہ یہ حضرات اللہ تعالی کے قول کو جھٹلا رہے ہیں (نعوذ باللہ)
میں سچ کہتا ہوں کہ جس طرح پہلے صادقین اور صالحین تھے اسی طرح اس وقت بھی صادقین اور صالحین موجود ہیں، طلب اور جستجو ہو تو وہ نظر آجاتے ہیں* ۔

(باتیں ان کی یاد رہیں گی صفحہ ۱۸۹ ملفوظات مولانا حکیم اختر صاحب رح مرتبہ مولانا محمد رضوان القاسمی رح)
محمد قمرالزماں ندوی