اہل اللہ کی صحبت کا فائدہ چوتھی قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

چوتھی قسط

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

*اہل اللہ*،بزرگان دین ،علماء و صلحاء اور صدیقین کی صحبت میں رہنا، ان سے اپنی روحانی امراض کا علاج اور تشخیص کرانا نیز اصلاح قلب اور تزکئہ نفس کے لئے ان کے بتائے ہوئے نسخے اور طریقے پر عمل کرنا یہ انتہائی ضروری ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا :
*نہ کتابوں سے نہ کالج کے ہے در سے پیدا*
*دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا*

روایت میں آتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اور *رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* ایک روز مسجد سے نکل رہے تھے ،مسجد کے دروازے پر ایک شخص ملا اور یہ سوال کیا کہ *یا رسول اللہ!* قیامت کب آئے گی ؟آپ نے فرمایا کہ ۰۰ تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ ۔۰۰ ( جو اس کے آنے کی جلدی کر رہے ہو) یہ بات سن کر یہ شخص دل میں کچھ شرمندہ سا ہوا اور عرض کیا کہ ۰۰ میں نے قیامت کے لئے بہت نماز ،روزے اور صدقات تو جمع نہیں کئے مگر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ،آپ نے فرمایا : کہ ۰۰ اگر ایسا ہے تو سن لو ! تم قیامت میں اس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت رکھتے ہو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ۰۰ ہم یہ جملئہ مبارک سن کر اتنے خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے بعد اس سے زیادہ خوشی کبھی نہیں ہوئ تھی۰۰ ۔ اور اس کے بعد حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ۰۰ میں اللہ تعالی سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما سے محبت رکھتا ،اس لئے امیدوار ہوں کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ رہوں گا (الترغیب و الترھیب ۴/ ۲۵بحوالہ سماج کو بہتر بنائیے ص ۱۷۹)

اس حدیث اور واقعہ میں ان تمام لوگوں کے لئے بشارت اور خوش خبری ہے جو علماء کرام ،بزرگان دین، صلحاء اور نیک لوگوں سے تعلق اور محبت رکھتے ہیں، کسی نہ کسی نوعیت جن کا ان سے قلبی لگاو اور انس ہے، امید اور توقع یہی رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالی کل حشر کے میدان میں جہاں نفسی نفسی کا عالم ہوگا اللہ تعالی ان اصحاب خیر و تقوی کے طفیل میں بھی بخش دے گا اور نجات کا پروانہ مل جائے گا ۔ کہ قدرت کو مغفرت و بخشش کے لئے صرف بہانا چاہیے اور وہ بڑا غفور ہے اور رحیم بھی ۔
علماء کرام نے اس حدیث کی تشریح میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اللہ اور اس کے رسول اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما سے محبت رکھنے کی وجہ سے مغفرت کی امید ہے اور یقینا ان کو بڑا مرتبہ و مقام حاصل ہوا تو ہمیں بھی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تابعین اور تبع تابعین سے بے پناہ عقیدت و احترام اور تعلق و نسبت ہے،اس لئے ہم بھی قیامت کے دن بخشش کی امید رکھتے ہیں ۔
ایک حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائ کہ مومن اور متقی ہی سے رشتئہ محبت استوار کرو اور اسی کے ساتھ کھانا پینا رکھو آپ کا ارشاد ہے *لا تصاحب الا مومنا ولا یاکل طعامک الا تقی*( ابن حبان) ۰۰ مومن کی صحبت میں رہو اور تمہارے دسترخوان پر پرہیز گار ہی کھانا کھائے ۔
یہ حقیقت ہے اور اس کا اعتراف سب کو ہے کہ انسان جس ماحول کو اختیار کرتا ہے جس طرح کی ہمنشینی اور صحبت اختیار کرتا ہے عادت ،خصلت طبعیت اور مزاج و رجحان ویسے ہی بن جاتا ہے اس لئے انسان کو ہمیشہ یہ غور و فکر کرتے رہنا چاہیے کہ ان کی دوستی اور ہمنشینی کن کے ساتھ ہے ان کے عادات و اطوار اور کردار و اوصاف کیسے ہیں کیا ان کے ساتھ رہنے سے اس کی آخرت تباہ و برباد تو نہیں ہوجائے گی وہ لوگوں کی نظر میں ذلیل و خوار تو نہیں ہوجائے گا ۔ اس پہلو پر انسان کی ہمیشہ نظر رہنی چاہئے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : *الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل* کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو وہ خوب دیکھ لے کہ کس سے اس کی دوستی ہے ۔
اس حدیث سے بھی نیک لوگوں کی صحبت اور معییت اختیار کر نے کی اہمیت اور ضرورت کھل کر سامنے آرہی ہے ۔

لیکن افسوس کہ آج ہم میں سے ایک بڑا طبقہ علماء کرام اور بزرگوں سے بدظن ہے اور ان کے بارے میں ان کی زبان پر منفی تبصرے ہیں بلکہ اب تو شمات اعداء کے درجہ میں ہم پہنچ گئے ہیں کہ فلاں ندوی صاحب سے فلاں رحمانی صاحب سے اور فلاں اصلاحی و قاسمی صاحب سے کوئ چوک یا بھول اور غلط فہمی ہو اور ہم اپنا بھڑاس نکالیں اور منفی زور خطابت و صحافت کا مظاہرہ کریں ۔اور جدید ذرائع ابلاغ کا سہارا لے جھوٹی اور سستی شہرت حاصل کریں ۔ یہ سوچ اور نظریہ انتہائی غلط اور منفی ہے ۔
*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*