اہل اللہ کی صحبت کا فائدہ پانچویں قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

پانچویں قسط
*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*الغرض* *اہل اللہ* صلحاء و اتقیاء اور بزرگان دین کی صحبت میں ان کی مجالس میں اور ان کے اقوال و ملفوظات میں وہ تاثیر پائ جاتی ہے جس سے سخت سے سخت انسان کا دل بھی موم ہو جاتا ہے ،خوف خدا،اور خوف اخرت کی ٹرپ اور جذبہ پیدا ہوتا ہے اور فطری طور پر انسانوں کے اندر سے نخوت و تکبر حسد و بغض اور حب دنیا کی برھتی ہوس ختم ہو جاتی ہے اور تواضع و انکساری رجوع الی اللہ اور فکر آخرت پیدا ہوتی ہے، نیز اخلاقی و روحانی امراض میں کمی آتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے اس ان بیماریوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ ان کے ہدایات و ارشادات جو عین شریعت کے مطابق ہوتے ہیں (یہاں عجمی تصوف اور ان خانقاہوں کو مستثنی کیا جاتا ہے جو اسلام کے نام پر شرک و بدعت اور رسم و رواج کے اڈے بنے ہوئے ہیں اور جہاں بے حیائیاں اور مرد و زن کا اختلاط عام ہے) ان پر عمل کرنے سے بہت جلد نفس کے عیوب اور رزائل کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور ان کے فیض اثر سے انسان اخلاق فاضلہ معرفت الہی آخرت کی طرف رغبت کی صفات سے متصف ہوتا ہے۔ پھر وہ کہیں بھی رہے اللہ تعالی کی قوت گرفت کا احساس ہمیشہ ساتھ رہتا ہے ۔

لیکن افسوس کہ روحانی و اخلاقی بیماری کی شدت اور زیادتی کے باوجود اور اس احساس کے باوجود کہ ہم ان بیماریوں میں بری طرح مبتلا ہیں اور ان امراض اور بیماریوں کے زمانے کے اعتبار سے ماہرین اطباء بھی موجود ہیں اپنی بیماریوں کے علاج سے غفلت اور سستی برت رہے ہیں اور صرف روحانی طبیبوں اور معالجوں نقد و تبصرہ اور ان پر انگشت نمائ کر رہے ہیں ۔
*سر زمین پرتاپگڑھ* کے ہی مشہور عالم دین روحانی و جسمانی طبیب و حکیم *مولانا اختر صاحب رح* جو بعد میں ہجرت کرکے پاکستان کراچی چلے گئے تھے انہوں نے ہماری اس بے حسی پر نشتر لگاتے ہوئے فرمایا تھا:
۰۰ آج ہمارا حال مختلف ہے ،اللہ والوں کی مجلس سے ہم بھاگتے ہیں ،ہم جس ماحوک میں رہتے ہیں وہ گناہ و عصیان کا ماحول ہے ۔ گرد و پیش سے عام انسان تو عام انسان ہے ،۰۰ ولی ۰۰ بھی متاثر ہو جاتا ہے ،سنیما اور گانوں کی آواز ،دنیا کی فحاشی یہ سب کچھ انسان کو متاثر کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عاد و ثمود کی بستی سے جب گزر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منھ چھپا لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جلدی سے گزر جانے کے لئے فرمایا،دیکھئے ماحول کا اثر، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ میں کس قدر اہمیت کا حامل ہے ،اگر اثر کا خوف نہ ہوتا تو جلدی سے کیوں گزرتے ؟اسی لئے کہا جاتا ہے کہ برے ماحول سے کٹ کر اللہ والوں کی مجلس میں بیٹھو، نورانیت پیدا ہوگی اور اچھے اثرات پڑیں گے ۔ ( باتیں ان کی یاد رہیں گی صفحہ ۴۵/ از مولانا محمد رضوان القاسمی رح )
لیکن یہ بات بھی یہاں ذہن میں رہے کہ اہل اللہ بزرگان دین اور اور اللہ کے ولی کی صحبت و ہمنشینی اور ان کی مجس سے اسی وقت فائدہ ملے گا جب آپ کے اندر استفادے کا سچا جذبہ لگن اور صحیح ٹرپ ہو اس کے لئے ان کے کڑوے اور کسیلے جملے بھی ضرورت کے وقت سننے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرنا ہو گا ،طالب علم اگر معلم و مربی کی سختی برداشت نہ کرے اور اس کو نہ جھیلے تو وہ علم حاصل نہیں کرسکتا ۔

*حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب* جو اعلی سرکاری عہدے پر تھے جب خانقاہ تھانہ بھون پہنچے اور وہاں ان سے دوران قیام کچھ بے اصولی ہوئ تو *حضرت تھانوی رح* نے *خواجہ مجذوب* کو تربیت کے پیش نظر خانقاہ نکال دیا ۔ ان کے اندر سچی تڑپ اور محبت تھی ۔ یہ پھاٹک سے نکل کر فٹ پات پر لیٹ گئے ۔لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ کو تو حضرت نے نکال دیا تو آپ اپنے گھر چلے جائیے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ تو ان کی جگہ نہیں ہے یہ جگہ تو سرکاری ہے میں یہاں سے کیوں چلا جاوں ۔
غرض کہ حضرت خواجہ صاحب پر حضرت تھانوی رح کو ترس ایا کہ بے چارے کے اندر سچی طلب ہے ۔ پھر چند ہی دنوں کے بعد تاج خلافت لئے ہوئے خانقاہ نکل رہے تھے تو یون فرماتے ہوئے گئے کہ ۔۔۔۔
نقش بتاں مٹایا، دکھایا جمال حق
آنکھوں کو آنکھ ،دل کو میرے دل بنایا
آہن کو سوز دل سے کیا نرم آپ نے
نا آشنائے درد کو بسمل بنا دیا
مجذوب در سے جا رہا دامن بھرے ہوئے
صد شکر حق نے آپ کا سائل بنادیا

*نوٹ پیغام کا اخری حصہ کل ملاحظہ فرمائیں جس میں اس غلط فہمی کا ازالہ کیا جائے گا کہ لوگ یہ کہتے ہیں اب ویسے بزرگ کہاں جو پہلے تھے اور جن سے تعلق قائم کیا جائے*
محمد قمرالزماں ندوی