اہل اللہ کی صحبت کا فائدہ دوسری قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی

*نیک* اور بد کی صحبت کے الگ الگ اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ صحبت کے اچھے اور برے اثر سے کسی کو انکار نہیں، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ نیک لوگوں اور اچھوں کی صحبت سے انسان اچھا بنتا ہے اور اس کے اندر اچھائیاں جنم لیتی ہیں نیکیاں پروان چڑھتی اور پنپتی ہیں اور بروں کی صحبت سے انسان برا بنتا ہے اور برائیاں وجود میں آتی ہیں ۔ فارسی کا مشہور و معروف مثل ہے گھر کی خواتین اور مائیں بہنین بھی اکثر اس مثال کو پیش کرتی تھیں کہ *صحبت صالح ترا صالح کند و صححبت طالح ترا طالح کند* یعنی صالح اور نیک لوگوں کی صحبت تجھے نیک بنائے گی اور برے افراد کی صحبت و ہمنشینی ان کے ساتھ میل جول سے تمہارے اندرب برے اور ناپاک خیالات جنم لیں گے، تمہاری روش ،ڈگر اور چال چلن خراب ہوجائے گا ۔

شب و روز کا مشاہدہ ہے کہ اچھے لوگوں کی صحبت سے لوگ اچھے اور نیک بنتے ہیں اور بروں کی صحبت سے لوگ برے بنتے ہیں اور غلط راہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ *ابو داود* کی حدیث ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
کہ نیک دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک بیچنے والے کی دکان کہ اور کچھ فائدہ نہ بھی ہو تو خوشبو ضرور آئے گی اور برا دوست ایسا ہے جیسے بھٹی سے آگ نہ لگے تب بھی دھوئیں سے کپڑے تو ضرور کالے ہوجائے گے ۔
*شیخ ابو الفضل جوہری* فرماتے ہیں کہ جو شخص نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ان کی صحبت میں بیٹھتا ہے ان کی نیکی کا حصہ اس کو بھی ملتا ہے ،دیکھو اصحاب کہف کے کتے نے ان سے محبت کی اور ساتھ لگ گیا تو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس کا ذکر فرمایا (قرطبی ۱۰/۲۴۲ بحوالہ سماج کو بہتر بنائیے از مولانا تنظیم عالم قاسمی)

آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اہل اللہ علماء اور صلحاء سے محبت و عقیدت رکھنے والوں ، اوران کی صحبت و ہمنشینی اختیار کرنے والوں کو کامیابی کی بشارت اور خوش خبری دی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
*ھم القوم لا یشقی بھم جلوسھم* یعنی یہ لوگ عند اللہ مقبول و محبوب ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا محروم اور شقی نہیں رہ سکتا ۔ *علامہ ابن حجر عسقلانی رح* نے *فتح الباری شرح بخاری* میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے *ان جلیسھم یندرج معھم فی جمیع ما یفضل اللہ بہ علیھم اکراما لھم* یعنی اہل اللہ کی صحبت میں بیٹھنے والا انہیں کے ساتھ درج ہوجاتا ہے جو اللہ تعالٰی اللہ والوں کو عطا کرتا ہے اور یہ در اصل اہل اللہ کا اکرام ہے ۔ جیسے معزز مہمانوں کے ساتھ ان کے ادنی خادموں کو بھی وہی اعلی و ارفع نعمتیں اور سہولیات دی جاتی ہیں جو معزز مہمانوں کے لئے خاص ہوتی ہیں ۔ اس کے پیش نظر اہل اللہ کے ہم نشیں اور جلیس کو بھی ان کی برکت سے محروم نہیں کرتے ۔ اگر اہل اللہ کے مکمل اوصاف و کمالات نہ بھی حاصل ہوئے تو ان کی صحبت کی برکت سے اپنے گناہوں پر افسوس اور ندامت و شرمندگی ہوگی،اور توبہ نصیب ہوگی ،نخوت و تکبر اور کبر و گھمنڈ کے بجائے تواضع و خاکساری اور ایثار و ترجیح نیز قربانی کا مزاج اور جذبہ پیدا ہوگا ۔
اس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ اہل اللہ، بزرگان دین، علماء کرام اور صلحاء کی مجالس میں بیٹھنے اور ان کی باتوں اور اقوال و ملفوظات کو سننے سے دل میں نرمی اور گداز پیدا ہے ،دل میں عمل کا شوق اور جذبہ پیدا ہوتا ہے ،اور اصلاح نیت کی توفیق ملتی ہے ۔ پتھر کی طرح سخت دل بھی موم بن جاتا ہے اور اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس میں صلاح و تقوی اور عمل صالح کی بیج ڈالی جاسکے ۔

ہمارے فاضل دوست مولانا تنظیم عالم قاسمی صاحب نے اہل اللہ کی صحبت و ہمنشینی کے حوالے سے بہت ہی موثر باتیں رقم کی ہیں ، لکھتے ہیں :
*سیرت پر نظر رکھنے والوں کو علم ہوگا کہ صحابئہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کو جو بھی مقام و مرتبہ حاصل ہوا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت کا فیض تھا،وہی بلال حبشی رضی اللہ عنہ جو پہلے غلام تھے حبشہ سے آئے تھے شکل و صورت بھی اچھی نہیں تھی ،لیکن جب انہوں نے کلمہ پڑھ لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک صحبت اختیار کی تو وہ دنیا کے امام بن گئے،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی ان کو سیدنا کہہ کر مخاطب فرماتے ،ان کے علاوہ بھی جتنے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب کتب حدیث میں موجود ہیں، سب کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک صحبت اور عشق و محبت سے ہے، یہی کیا کم ہے کہ کسی تفریق کے بغیر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فیضان صحبت اور مجالس نبوی کی بنیاد پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لئے اپنی خوشنودی کا اعلان فرما دیا* ۔
(سماج کو بہتر بنائیے صفحہ ۱۷۹ از مولانا تنظیم عالم قاسمی)
محمد قمرالزماں ندویؔ