اہل اللہ کی صحبت کا فائدہ تیسری قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

حافظ عبد العلی صاحب بہرائچی رح نے ایک دفع حضرت حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح* کو عریضہ (خط) لکھا کہ حضرت! میرا حال بہت خراب ہے نہ جانے قیامت کے دن میرا کیا حال ہوگا ۔ *حضرت تھانوی رح* نے جواب میں تحریر فرمایا کہ انشاء اللہ بہت اچھا حال ہوگا ۔ اگر کاملین میں نہ اٹھائے گئے تو انشاءاللہ تائبین میں ضرور اٹھائے جائیں گے ۔ یہ بھی بڑی نعمت ہے اور فرمایا کہ یہ ہمارے سلسلہ کی برکت ہے جو لوگ اللہ والے اور نیک و بزرگ لوگوں سے جڑے رہتے ہیں ان کے سائے میں پڑے رہتے ہیں وہ بھی محروم نہیں رہتے ۔

مولانا رومی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جو کانٹے پھولوں کے دامن میں اپنا منھ چھپائے ہوئے ہیں ان کو باغباں گلستاں سے نہیں نکالتا ،لیکن جو خالص کانٹے ہیں اور پھولوں سے اعراض کئے ہوئے ان سے مستغنی اور دور رہتے ہیں، ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے ۔ *مولانا رومی رح* فرماتے ہیں : ۔۔۔۔

آں خار می گریست کہ اے عیب پوش خلق
شد مستجاب دعوت اور گلع ذار شد

ایک کانٹا زبان حال سے رو رہا تھا کہ اے مخلوق کے عیب چھپانے والے خدا ! میرا عیب کیسے چھپے گا کہ میں تو کانٹا ہوں ۔ اس کی یہ فریاد و گریہ زاری قبول ہوئ اور حق تعالی کے کرم نے اس کی عیب پوشی اس طرح فرمائ کہ اس پر پھول اگا دیا جس کی پنکھڑیوں کے دامن میں اس خار نے اپنا منہ چھپا لیا ۔ پس اگر ہم کانٹے ہیں نالائق ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اللہ والوں کی صحبت میں رہا کریں ۔ اس کی برکت سے انشاءاللہ تعالی اول تو ہم خلعت گل سے نواز دئے جائیں گے یعنی اللہ والے ہوجائیں گے ۔ ورنہ اگر کاملین نہ ہوئے تو تائبین میں انشاءاللہ تعالی اٹھائے جائیں گے ۔ مثل خار کے محروم نہیں رہیں گے ۔

مولانا حکیم اختر صاحب رح* نے اسی حقیقت اور اسی مضمون کو اپنے اشعار میں یوں پیرویا ہے شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے :
*ہمیں معلوم ہے تیرے چمن میں خار ہے اختر*
*مگر خاروں کا پردہ دامن گل سے نہیں بہتر*
*چھپانا منہ کسی کانٹے کا دامن میں گل تر کے*
*تعجب کیا چمن خالی نہیں ہے ایسے منظر سے*

(*باتیں ان کی یاد رہیں گی صفحہ ۱۴۱ از مولانا محمد رضوان القاسمی رح*)

اہل اللہ علماء و مشائخ صلحاء اور بزرگان دین کی صحبت کا ادنی اور کم سے کم فائدہ یہ ہے کہ ان سے محبت و تعلق رکھنے والا اور ان کی صحبت میں رہنے والا گناہ پر قائم نہیں رہتا توفیق توبہ اور توفیق رجوع الی اللہ ہوجاتی ہے۔ اور شقاوت سعادت سے تبدیل ہوجاتی ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں بھی یہ مضمون آیا ہے کہ اہل اللہ یہ وہ مقبولان حق ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا محروم اور شقی نہیں رہ سکتا ۔ حضرت علامہ الحاج فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کے اندر دین کی پیاس ہی نہ ہو تو ایسے لوگوں کو بھی مایوس نہ ہونا چاہئے ۔ اللہ والوں کی صحبت میں جس طرح طالبین صادقین فیض یاب ہوتے ہیں ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے قلوب دین کی طلب اور پیاس سے خالی ہیں ،ان کو اللہ والوں کی صحبت سے دین کی پیاس اور طلب بھی عطا ہو جاتی ہے ،یہ نہ سوچنا چاہئے کہ جب ہمارے اندر دین کی طلب صادق نہیں ہے تو ہم کو اللہ والوں کے یہاں کیا ملے گا ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے مقبول بندوں کی صحبت میں پارس پتھر کا اثر رکھا ہے اور پارس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ لوہا اس سے چھو جاتا ہے تو فورا سونا بن جاتا ہے ۔

(باتیں ان کی یاد رہیں گی صفحہ ۱۴۲ از مولانا محمد رضوان القاسمی رح )

محمد قمرالزماں ندوی