اگر انسان عزم اور حوصلہ کرلے !

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ
میرے قارئین باتمکین!
واقف ہیں کہ میرا وطن دگھی مہگاواں ضلع گڈا جھارکھنڈ* ہے (قدیم صوبہ بہار)
یہ پورا علاقہ کوہ لال ماٹی کے دامن میں مغربی جانب دور تک پھیلا ہوا ہے ۔ لال ماٹی ( معروف للمٹیا ضلع گڈا) یہ انڈسٹریل ایریا ہے جہاں کوئلے کی کھدانیں ہیں جہاں سے ملک کے مختلف صوبوں میں کوئلے مال گاڑی اور ٹرک کے ذریعہ سے ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ یہ علاقہ اہل علم اور دانشوروں کا بھی مرکز رہا ہے اور جہد مسلسل سے تاریخ رقم کرنے والوں کی بھی ایک فہرست یہاں کی رہی ہے۔

آج کے پیغام میں، میں اپنے علاقہ کے ایک عظیم ملی سماجی اور سیاسی شخصیت *سعید احمد* ( ایم ایل اے ولادت ۱۹۳۳ ء(سابق ریاستی وزیر ) کا تعارف کراوں گا اور ان کے عزم و حوصلے کا ذکر کروں گا ۔ ابھی دو تین سال پہلے ان کا انتقال ہوا ہے ۔ دوران طالب علمی ندوہ میں دینی تعلیمی کونسل کے ایک دو پروگرام میں ان سے ملاقات اور گفتگو کا موقع خاکسار کو ملا ہے ۔ ان کو حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی ذات سے بڑی عقیدت و محبت تھی اور ان کی تصانیف کو اہتمام سے پڑھتے تھے ۔
*جناب وزیر سعید احمد صاحب مرحوم* ہمارے علاقہ کے واحد شخص ہیں جھنوں اپنی ذاتی محنت اور جدوجہد سے سیاست کے اوج فلک تک رسائ حاصل کی وہ دو بار *مہگاواں اسمبلی* حلقہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور 1977ء میں بہار اسمبلی میں ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد ڈھائ سال تک جنتا پارٹی حکومت میں منصب وزارت اوقاف کو زینت بخشی اور اس دور وزارت میں انہوں نے بڑی دریا دلی سے مساجد و مقابر کی حفاظت کی اور بہار اسمبلی سے ایک خطیر رقم مساجد و مقابر کو دلوایا ۔ آپ کا کاروان زندگی بہت ہی نشیب و فراز اور زیر و بم سے گزرا اور اس راہ میں بہت سے تجربات سے ہمکنار ہوا ہے ،آپ نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اپنی آپ بیتی *کاروان حیات* میں پیش کیا ہے ۔ اس کتاب میں آپ نے حقائق و واقعات اور زندگی کے تجربات کا نچوڑ اور خلاصہ بھی بیان کیا ہے ۔
ایک دور ایسا بھی ان پر گزرا کہ باوجود انٹر اور گریجویشن پاس ہونے کے گھر اور خاندان کے گزر بسر اور کفالت کے لئے انہوں نے کئ سال تک ریلوے اسٹیشن پر اخبار بیچنے کا کام بھی کیا اور اس کے ذریعہ سے بچوں اور افراد خانہ کی کفالت کی لیکن ان کا عزم اور حوصلہ بلند تھا قوم کی ملی اور سماجی خدمت کے لئے دل میں امنگیں اور آرزوئیں تھیں سیاست کے میدان سے قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ تھا اور ان کے سامنے شاعر کا یہ شعر اور پیغام تھا کہ

عزم محکم ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا
کتنے طوفان کو الٹ دیتا ہے ساحل تنہا

وہ اقبال مرحوم کے اس شعر پر عمل پیرا تھے کہ

مل جائے گی کبھی منزل لیلی اقبال
کچھ دنوں اور ابھی بادیہ پیمائ کر

وہ اس مقام اور منزل کو پانے کے لئے کمر بستہ رہے اور محنت و جہد و جہد کرتے رہے تو پھر ان کو کئ ناکامیوں کے بعد کامیابی ہاتھ آئ اور وہ دو بار اس عہدے پر پہنچ کر اور منصب وزارت حاصل کرکے قوم و ملت کو یہ باور کرا دیا کہ اگر انسان طے کرلے اور مقصد کے لئے کمر باندھ لے دنیا میں کوئ کام مشکل اور دشوار نہیں ہے ۔ ایک اخبار فروش بھی اگر عزم کا دھنی ہوجائے تو وہ بھی ایوان اقتدار کی رکنیت و وزارت حاصل کر سکتا ہے ۔
آگے بھی وہ اس راہ اور منصب سے قوم کی خدمت کر سکتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے پوری کوشش بھی کی، لیکن وہ بھی مولانا ابو الکلام آزاد رح کے اس تاثر ، صداقت اور سچائ کے شکار ہوگئے *کہ دو چیزیں ہندوستان سے کبھی ختم نہیں ہو سکتں ایک ہندوں کا تعصب اور دوسری مسلم قوم کا اپنے قائدین پر سے بے اعتمادی*

استاد محترم *حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رح* (بانی و سابق ناظم اعلی دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد ) نے ایک جگہ شک۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ تذبذب ناکامی کا نقیب ،شکست کا پیامبر اس عنوان کے تحت لکھا ہے :
*خواہ خواہش کا کوئ بھی دائرہ ہو یا کسی قسم کی بڑی سے بڑی چاہت کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
اگر انسان اپنی زندگی کے مقصد اور پھر مقصد کے حصول کے لئے کمر باندھ کر تیار ہوجائے اور عمل پیہم جاری کر دے تو بہت جلد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا ۔لیکن شرط ہے انسان ہمت،صبر و ضبط اور تحمل کا دامن پکڑے ہوئے لگن ،جوش اور ولولے کے ساتھ کوشش و محنت شروع کر دے ،اس میں ذرا بھی تاخیر نہ کرے اور ہرگز شک و شبہ میں نہ پڑے۔ کہ خدا جانے اپنی منزل پر پہنچ جاوں گا یا نہیں، ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی تذبذب یا شک ہے، ناکامی کا وہم انسانی ترقی اور مقصد کے حصول کے راستے میں نہ صرف روڑے اٹکاتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو مقصد ہی کو دل سے نکال باہر کرتا ہے ،اس لئے کہ اول تو وہم اس کی انفرادی خوبیوں اور قابلیت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر اسے کام کرنے کا نا اہل بنا دیتا ہے ،ایسے لوگ ہر روز اپنا ارادہ بدلتے رہتے ہیں،پلان میں ترمیم کرتے رہتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا کوئ بھی کام بنتا نہیں بلکہ ہر روز نیا مقصد جنم لیتا ہے پھر پانی کے بلبلے کی طرح فنا ہوجا ہے اور انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ لہذا اپنی اہلیت اور قابلیت پر بھروسہ رکھ کر ہمت اور لگن کے ساتھ ایک خاص مقصد کی خاطر جٹ جانا بھی کامیابی کی کنجی ہے حالانکہ حصول مقصد کی راہ میں بہت ساری دشواریاں سامنے آتی ہیں اور آتی ہی رہیں گی لیکن یہ دشواریاں مقصد کو ختم نہیں کرسکتیں اگر راہ میں شباب کا طوفان اور محنت میں پسینہ کا جزو زیادہ سے زیادہ ہو* ۔( چراغ راہ صفحہ ۳۸۳)
آئیے ہم سب بھی عزم کرلیں کہ منزل کو پانے کے لئے وہ سب کچھ ؟؟؟؟؟؟؟؟