اپنے ہوئے پرائے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

سیدہ تبسم منظور ناڈکر
صبح سے ہی ابر چھایا ہوا تھا۔ جیسے سورج کسی وجہ سے روٹھ گیا ہو اور اس نے اپنا دیدار کروانے سے ہی انکار کر دیا ہو۔۔۔۔۔سر میں کافی درد ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔صبح ہی صبح کئی الجھنیں سر پر سوار ہورہی تھیں اور اس پر آئے دن کام والی کے نکھرے آج پھرڈر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔کل اس نے چھٹی کی تھی اس لیے آج اس کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ آئے تو کام سمجھا دیں گے۔خدا خدا کرکے وہ آئی اور گھر میں داخل ہوتے ہی شروع ہوگئی ،’’دیدی ! آپ کے پڑوس میں بہت دن سے جو گھر خالی تھا نا آج وہاں کوئی کرائے دار آئے ہیں۔سامان اتارا جارہا ہے۔ اور سارا سامان بالکل نیا ہے۔‘‘ ہم نے اس کی باتیں سنیں اور صرف اچھا کہہ کر چپ ہوگئے۔ اسے سب کام سمجھا کر باہر آکر بیٹھے ہی تھے کہ ہماری پڑوسن نازیہ آگئیں۔علیک سلیک کے

بعد ان کی کہانی شروع ہوگئی۔زویا باجی! اپنے پڑوس والا گھر جو کئی مہینوں سے خالی پڑا تھا اس میں نئے کرائے دار آگئے ہیں۔اسی لئے کچھ دن پہلے رنگ روغن کا کام چل رہا تھا۔ ہم نے بھی بڑے تجسس سے پوچھا کہ کون ہیں یہ نئے کرائے دار ؟ تو انھوں نے کہا دو عورتیں ہیں اور ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی بچی بھی ہے۔ ایک عورت بہت ہی خوبصورت وجوان ہے اور ایک ذرا عمر دراز عورت ہے۔ ’’ چلو اچھا ہے افضل صاحب کو کرائے دار تو مل گئے۔اللہ کرے یہ اچھے انداز سے رہیں ورنہ پچھلے کرائے دار تو انہیں بہت پریشان کر گئے تھے۔‘‘ ہم نے بھی اپنی بات کہہ دی۔ تھوڑی دیر بیٹھ کر نازیہ چلی گئیں تو ہم بھی اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ اس عورت کو ہمارے محلے میں آئے ہوئے کچھ آٹھ دس دن ہی ہوئے تھے۔ ہم نے تو صرف ایک ہی بار انہیں دیکھا تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھیں۔سر پر اسکارف پہنے ہوئے تھیں۔ان کے رہن سہن سے ایسے لگ رہا تھا کہ وہ کسی بہت رئیس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بہت ہی اعلی درجے کے کپڑے پہنتی تھیں۔ ان دس دنوں میں ہم نے تو صرف ایک بار انہیں دیکھا تھا پر محلے میں ان کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ پتہ نہیں لوگ دوسروں کے گھروں میں تانک جھانک کیوں کرتے ہیں۔آج پھر سینازیہ ہمارے گھر پر ٹپک پڑیں۔’’ السلام علیکم زویا باجی!۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ؟ ‘‘’’وعلیکم السلام ! ۔۔۔۔۔۔ الحمدللہ ہم اچھے ہیں۔ آئیے بیٹھیے نازیہ۔ سب خیر تو ہے نا ! ‘‘’’ جی زویا باجی! سب خیر ہے۔ ہم آپ سے کچھ کہنے آئے ہیں۔ آپ تو گھر سے بہت ہی کم باہر نکلتی ہیں تو سوچا کہ چل کر ہم ہی آپ کو کچھ خبر کردیں۔‘‘’’کیا خبر دینی ہے آپکو نازیہ۔۔۔۔ کچھ پریشانی ہے کیا؟ ‘‘’’نہیں زویا باجی! ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اپنے محلے میں جو باتیں ہورہی ہیں، وہ بتانے آئے ہیں آپ کو۔۔۔۔۔ وہ دس پندرہ دن پہلے ہمارے محلے میں جو نئے کرائے دار آئے ہیں نا۔۔۔۔۔ ان کے بارے میں لوگ بہت ساری باتیں کر رہے ہیں۔‘‘’’کیوں کیا ہوا؟ کیا باتیں کررہے ہیں لوگ ! لوگوں کا کام ہے بس کسی کے بھی بارے میں کچھ بھی بولتے رہنا۔۔۔۔۔۔ وہ کسی کا اچھا بھی نہیں دیکھ پاتے۔۔۔۔ اور ۔۔ اور برا بھی نہیں۔۔۔ ہر طرح سے کہتے ہیں لوگ نازیہ! آپ بتائیں کیا کہنا چاہتیں ہیں آپ !‘‘’’ سب کہتے ہیں اور ہم نے بھی دیکھا ہے کہ اس عورت کے گھر روزانہ ایک سفید رنگ کی کار آتی ہے۔ برابر پانچ اور چھ بجے کے درمیان اور وہ عورت اس کار میں بیٹھ کر اْس آدمی کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ وہ دوسری عورت جو عمر دراز ہے وہ اس چھوٹی بچی کو لے کر گھر میں ہی رہتی ہے۔

زویا باجی! لوگ کئی طرح کی باتیں کر رہیہیں۔‘‘’’ نازیہ دیکھیں اس طرح کسی پر الزام نہیں لگا سکتے۔ہوں گے کوئی ان کے رشتے دار یا اور کوئی۔۔۔۔۔ جن کے ساتھ وہ جاتیں ہوں اور محلے والوں کو کیا لینا دینا کسی کی ذاتی زندگی سے۔۔۔۔۔۔‘‘’’نہیں زویا باجی ! رشتے دار تو کبھی کبھی آتے ہیں۔ روزانہ ایک ہی آدمی کا ایک کار لے کر آنا۔۔۔۔۔ اور ان کا اس کار میں بیٹھ کر چلے جانا۔۔۔۔۔ روز کا معمول ہے۔اب ایسی صورتحال میں اس عورت کے بارے میں ہم کوئی اچھا نتیجہ تو اخذ نہیں کر سکتا نا؟ ‘‘ نازیہ اپنی باتیں کہہ کر چلی گئی اور ہم اس عورت کے بارے میں سوچنے لگے۔ اب ہم نے اس عورت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کی۔ پتہ چلا کہ ہر کسی کی زبان پر اسی عورت کے ہی چرچے تھے۔۔۔۔کوئی کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اس سے ہمارے محلے کا ماحول خراب ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔ گھر میں بہو بیٹیاں ہیں ان پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔۔۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہورہی تھیں۔ ایک دن تو حد ہوگی۔ چار عورتیں مل کر ہمارے پاس آئیں اور اسی عورت کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ عورت روزانہ کسی آدمی کے ساتھ جاتی ہے اور رات گئے واپس آتی ہیں۔ شائد وہ کوئی غلط کام کر رہی ہے۔ آئیں ہوئیں ان عورتوں میں سے تو ایک نے بنا سوچے سمجھے یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں تو لگتا ہے وہ عورت دھندا کرتی ہے۔ ہم نے انہیں بہت سمجھایا کہ کسی پر اس طرح الزام نہ لگائو۔۔۔ پتہ نہیں کسی کی کیا مجبوری ہو۔۔۔۔ پوری بات کا علم نہ ہو تب تک ہم کسی پر انگلی نہیں اٹھا سکتے اور پھر وہ ہمارے پڑوسی ہیں۔ رسول اللہ ؐنے فرمایا ہے کہ اپنے پڑوسیوں سے حسن سلوک رکھو وہ عورت جیسی بھی ہے اس کی وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی اور تکلیف تو نہیں ہے نا۔ پھر کیوں آپ لوگ ان کے گھریلو مسائل کے بارے میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔ کسی طرح ہم نے ان کو سمجھا بجھا کر چپ کرادیا۔ لیکن ہر روز کوئی نہ کوئی انہیں کے بارے میں آکر باتیں کرتے رہتا۔ ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی پر کوئی سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا۔ اللہ اور اس کے رسول ؐکے حکم بتائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ’’تم لوگوں کے راز فاش مت کرو ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی تمہارے راز فاش کردے اور تم لوگوں کے سامنے رسوا کر دیئے جائو۔‘‘ ہم نیاپنے پڑوسیوں سے وعدہ کیا کہ ہم بہت جلدی اس بات کا پتہ لگائیں گے آخر ماجرا کیا ہے۔ ہم نے بھی اب اپنے دل میں ٹھان لیا کہ اس حقیقت سے آشنا ہونا ہی پڑے گا۔ اگلے ہی دن ہم اپنے کام سے فارغ ہو کر اس نئے پڑوسی کے گھرجا پہنچے۔ دروازے پر دستک دی تو اندر سے آواز آئی ، ’’کون ہے۔۔؟ ‘‘ ہم نے کہا ، ’’ہم زویا ہیں۔ آپ کے پڑوس میں رہتے ہیں!!!‘‘ اندر سے پھرآواز آئی، ’’ کیا کام ہے آپ کو ؟ ‘‘ ’’جی بس !ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔‘‘ پھر اندر سے وہی آواز آئی، ’’ معاف کیجیے۔ہماری طبیعت خراب ہے۔ ہم اس وقت آپ سے نہیں مل سکتے۔‘‘ دروازے پر ’ندا ہاشی ‘نام کی تختی لگی ہوئی تھی۔ ہم اپنا سا منہ لے کر چلے آئے۔ہم سوچ رہے تھے کہ کیسی عورت ہیکہ کوئی مہمان دروازے پر ہے اور وہ دروازہ بھی نہیں کھول رہی ہے۔خیر ! ہم نے بھی سوچا کہ ہمت نہیں ہاریں گے۔۔۔۔۔۔ہم دو تین بار اسی طرح ان کے گھر گئے پر دروازہ نہیں کھلا۔۔۔۔۔آج توہم نے دل ہی دل میں ٹھان لیا کہ آج پوری پوری کوشش کریں گے۔ دروازہ نہیں کھلا تو یہ ہماری آخری کوشش ہوگی اور پھر کبھی نہیں جائیں گے۔ہمیں بھی برا لگ رہا تھا کہ ہم بار بارجارہے ہیں اور یہ عورت ہے کہ دروازہ ہی نہیں کھول رہی۔۔۔۔ پر اْن کے بارے میں ہمیں جاننا بھی ضروری تھا۔ ہم اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کررہے تھے۔آج پانچواں دن تھا۔۔۔۔۔ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنا نام بتایا۔ اس مرتبہ خلاف توقع ہمارا جملہ پورا ہوتے ہی دروازہ کھل گیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ شاید ان کو بھی ہمارے بار بار آنے سے شرمندگی کا احساس ہوا ہو۔دروازہ کھلا تو ہم سے اندر آنے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے سلام کیااور ان کے سامنے پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمیں اشارے سے بیٹھنے کے لیے کہا اور آواز لگائی، ’’ دائی ماں ! پانی لے کر آئیں پلیز۔۔۔۔۔۔‘‘کچھ ہی دیر میں ایک پچاس ساٹھ سال کی عورت پانی کا گلاس لے آئیں اور ہمارے سامنے پیش کیا۔ ہم نے پانی پیا اور اسی وقت چائے بھی آگئی۔ چائے کے دوران ہی وہ ہم سے مخاطب ہوئیں، ’’ بتائیے زویا جی !کیا بات ہے؟ آپ ہم سے کیوں ملنا چاہتی ہیں؟ ‘‘’’کچھ نہیں ندا جی ! بس یوں ہی۔۔۔۔ آپ ہمارے پڑوس میں رہنے آئیں اور ہم آپ سے نہیں ملے تھے اس لئے سوچا کہ چل کرا?پ سے ملاقات کر لیں۔۔۔۔۔ پر آپ دروازہ ہی نہیں کھول رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ اسی دوران آپ کے رویے سیاندازہ ہوا کہ شاید آپ کی طبیعت خراب ہے۔‘‘ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شرمندگی محسوس کررہی ہیں۔بولنے لگیں، ’’ کچھ نہیں۔بس یوں ہی کچھ طبیعت خراب رہتی ہے۔ آپ ہمارے آشیانے پر تشریف لائیں اور آپ کے بار بار آنے پر ہم دروازہ نہیں کھول پا رہے تھے۔۔۔۔اس کے لئے ہم معذرت چاہتے ہیں زویا جی !‘‘’’جی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔!‘‘’’ندا جی !اگر آپ کواعتراض نہ ہو تو ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کسی کو بھی کسی کی نجی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔۔ پر ہمارے لئے آپ کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔ اور ہم اسی وجہ سے آپ کے گھر بار بار آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے محلے والے آپ کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں۔۔۔۔ ایک عورت ہونے کے ناطے کیا ہم کچھ آپ سے پوچھ سکتے ہیں؟‘‘’’زویا جی!!! ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ایک لمبی سانس لی اور کہاکہ پوچھئے آپ کو کیا پوچھنا ہے۔’’نداجی !ہمیں غلط مت سمجھنا! ہم ایک عورت ہونے کے ناطے دوسری عورت سے ان کے درد اور پریشانیاں جاننا چاہتے ہیں۔ آپ ہمیں اپنا دوست سمجھیں اور ہماری باتوں کا برا نا مانیں۔ کچھ دن پہلے ہمارے گھرپر محلے کی دو چار عورتیں آئیں تھیں۔۔۔۔۔ اور انہوں نے آپ کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے۔۔۔۔ اس وقت توہم نے انہیں چپ کر کے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ان کی شکایتیں دور کردیں گے۔ اسی وقت سے آپ کے گھر پر آ رہے تھے۔ ہم آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ تھوڑا رک کر دوبارہ جب بولنے لگے تو ہماری آواز میں کچھ ہچکچاہٹ آگئی۔ ہم نے ان سے پوچھا۔۔۔۔’’ ندا جی ! آپ محلے میں کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں کہ کوئی آپ کے بارے میں کچھ بھی جان سکے۔ محلے والے مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے گھر پر روزانہ ایک کار آتی ہے اور آپ کار میں سوار ہو کر ان کے ساتھ چلی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ایک دو دن کی بات ہو تو ٹھیک ہے پر اگر روز کا یہی معمول ہو تو کوئی بھی کچھ بھی غلط نتیجہ ہی نکال سکتا ہے نا۔۔۔۔۔…. پلیز ہمیں غلط نہ سمجھیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ ہماری باتیں بہت ہی خاموشی اورسکون سے سن رہی تھیں۔ ان کا پورا جسم ایک بڑے سے دوپٹے میں جیسے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔۔ ہم چپ ہوئے تو دیکھا کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھیگنے لگی تھیں۔ ایسا لگاجیسے ہم نے ان کے کسی گہرے زخم کو کریددیا ہو۔۔۔۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے وہ ہم سے مخاطب ہوئیں۔’’ زویا جی ! لوگ تو ہمیشہ ہر کسی پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ ہم اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کسی سے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں سمجھتے۔ پھر بھی اگر آپ لوگوں کو ہمارے یہاں رہنے سے پریشانی یا تکلیف ہو رہی ہے تو ہم یہاں سے اور کہیں چلے جائیں گے پر شاید ہمارے جانے سے ہماری مشکلیں حل نہیں ہوں گی اور ہم جہاں بھی جائیں گے ہر جگہ شاید یہی سوال اٹھیں۔۔۔۔ اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ آپ کو سب کچھ بتا دینا چاہئے اور شاید یہی بہتر ہوگا۔ ہم ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی شہر میں ہماراایک عالیشان مکان بھی ہے۔ ہم اپنی مجبوری کی وجہ سے کرائے کے گھر پر رہنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ ہمارے رہن سہن سے شاید آپ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہو۔۔۔۔۔ ہم اس کے لئے معذرت چاہتے ہیں۔ لیکن ہم کوئی غلط کام نہیں کررہے ہیں۔‘‘ تھوڑی دیر ہم دونوں کے بیچ خاموشی رہی پھر انہوں نے درد سے کراہتے ہوئے اپنی بات شروع کی۔۔۔۔۔۔’’ ہم ندا ہاشمی! آپ نے باہر نام کی تختی دیکھ ہی لی ہے۔اس شہرمیں کافی لوگ ہمارے خاندان کے بارے میں جانتے ہیں۔بنگلہ، گاڑی، نوکر ،چاکر سب کچھ ہے اللہ کادیا لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالی نے ایک درد بھی دیا ہے۔۔۔۔۔۔ جب وقت اچھا ہو تو پرائے بھی اپنے ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن جب وقت ہی خراب ہو تو اپنے بھی پرائے ہو جاتے ہیں ایسے ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ہمارے شوہرکا دبئی میں خاصا بڑا کاروبار تھا۔ وقت اچھا گزر رہا تھا کہ اچانک ایک حادثے میں ہمارے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ ہم پر تو آسمان ہی ٹوٹ پڑا تھا۔ ابھی عدت کی مدت پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہمارے دیور کی نیت میں فتور آگیا۔ اس نے پورا کاروبار اور جائیداد پر قبضہ کرنا چاہا۔ چند لالچی رشتے دار اس کے ساتھ ہوگئے۔ ہم نے بھرپور مزاحمت کی اور اپنے شوہر سے کاروبار سے بارے میں جتنی بھی باتیں کی تھیں، وہ سب یاد کرکر کاروبار کی طرف دھیان دینا شروع کیا۔ کاروبار تو ہمارے شوہر کا ہی تھا اس لیے قانوناً ہمیں مضبوط حیثیت ملیں تھیں۔ اسی بات پر ہمارے دیور غنڈہ گردی پر آمادہ ہوگیے۔

ہم پر دو حملے ہوئے مگر اللہ کے کرم سے ہماری جان محفوظ رہی۔ ہاں زخمی ضرور ہوگئے تھے۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ ہمیں بریسٹ کینسر بھی ہوگیا ہے۔۔۔اسی دوران دشمنیاں بڑھتی رہیں۔ بات کورٹ تک جاپہنچی تھی۔بیماری اور اس ماحول نے ہمیں توڑنا شروع کیا۔ ہماری ایک ہی بچی ہے۔ اس کی بھی فکر تھی اس لیے ہم نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ایک جگہ مکان لیا تھا۔ وہاں بھی دشمنوں نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ زندگی مشکل ہوتی گئی تو ہم نے ایک فیصلہ کیا۔ چپ چاپ گائوں سے ایک کزن کو بلایا لیا جسے ہمارے سسرالی رشتے دار نہیں پہچانتے تھے۔ انہوں نے یہ مکان تلاش کرکے کرایے پر لیا اور ہم نے رات کی خاموشی میں اس گھر کو چھوڑ دیا۔ اب دواخانے اور وکیل کے پاس اور کچھ بزنس کیکام کے لیے ہمارے کزن ہمیں لے جاتے ہیں۔ اسی وقت وہ اپنی مصروفیات سے فارغ ہو کر ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہم نقاب میں ہوتے ہیں اس لیے اب تک بچتے آئیں ہیں۔ زویا جی !!!!! ہمارے امی ابو نہیں ہیں اس دنیا میں۔۔۔۔۔۔۔ دو بھائی ہیں اور دونوں ہی امریکہ میں ہیں۔ ہم انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ اب ہمارے کزن ہمارے تمام معاملات سنبھالتے ہیں۔ احتیاطاً ہم نے انہیں یہاں نہیں رکھا ہے۔ اگر ہمارے یہ بھائی ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو ہم کب کے ٹوٹ کر بکھر چکے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہماری دائی ماں نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔ یہ بچپن سے ہمارے ساتھ ہیں۔آپ ہمارے لئے دعا کریں کے ہم جلد صحت یاب ہوجائیں اور ہمارے مسائل بھی حل ہوجائیں۔‘‘ ان کے صبر کا دامن چھوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ ہمارا پورا بدن جیسے مفلوج ہوچکا تھا۔ صرف کانوں میں ندا جی کی آواز گونج رہی تھی۔ کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ؟ اپنوں کو بھی اتنا کٹھور ہونا چاہئے؟ ہم انہیں روتا دیکھتے رہیں۔ انہوں نے خود پر قابو پا لیا اور چپ ہوئیں۔ اب جب وہ بولیں تو ان کی آواز میں ایک عجب سا جلال تھا۔ بولیں، ’’ زویا جی ! ہمارے اپنے ہم سے دور ہوگئے، دولت کی ہوس نے خون سفید کردیا۔ ہم ایک عورت ہوکر اس ظالم نظام کا مردانہ وار مقابلہ کررہیں ہیں۔ سماج بھی ہمارے خلاف باتیں کررہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے جس کے سر پر شوہر کا سایہ نہ ہو تو اس عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جنہیں ہمارے سر کا سائبان ہونا چاہئے وہی عزت و آبرو کے دشمن بن گئے ہیں۔ وہی ہمارے خون کے پیاسے ہو گئے۔ لوگوں کو عورت کے کردار کی جتنی فکر ہوتی ہے اتنی ہی فکر وہ اپنے کردار کی کریں تو اچھا ہوتا۔۔۔ کیسے مقابلہ کریں اس ظالم سماج کا۔۔۔۔ کیا یہی تعلیم، تہذیب و تمدن ہے؟ کیا یہی مردانگی ہے؟
سیدہ تبسم منظور ناڈکر
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں