الیکشن کمیشن کو جھوٹ کی حد مقرر کرنا چاہئے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

حفیظ نعمانی
حیرت ہے کہ اس پر کوئی نہیں بولتا کہ ہر پارٹی اپنے انتخابی منشور میں چاند ستارے توڑکر ووٹروں کو دینے کا وعدہ کرتی ہے اور حکومت بنانے کے بعد وہ کرتی ہے جو اس کا جی چاہتا ہے اور کوئی نہیں ہے جو یہ معلوم کرسکے وہ سب چیزیں کیا ہوئیں جس کا وعدہ کیا تھا؟ کرناٹک کے الیکشن کے لئے کانگریس کیلئے اس کے صدر راہل گاندھی نے انتخابی منشور جاری کیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ پانچ سال پہلے جو انتخابی منشور جاری کیا تھا اس میں سے 95 فیصدی کام مکمل کردیئے ہیں اور کانگریس کی مخالف پارٹی بی جے پی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ کانگریس نے پانچ سال پہلے جو منشور میں کہا تھا اس کا 25 فیصدی بھی کام نہیں کیا۔ اور ہر لیڈر مسکراکر کہہ رہا ہے کہ انتخابی منشور جھوٹ کا پلندہ ہے۔
یہ الزام اس پارٹی کے لوگ لگا رہے ہیں جن کے گھروں میں ابھی 2014 ء کا ان کا اپنا منشور کہیں پڑا ہوگا اور اگر نہیں بھی ہوگا تو سب کو یاد ہے کہ نریندر مودی نام کے اُمیدوار نے کہا تھا کہ کانگریس کے لیڈروں نے چار لاکھ کروڑ روپئے باہر ملکوں میں لے جاکر رکھ دیا ہے یہ کالا دھن ہے جسے اگر میری حکومت بنی تو 100 دن میں وہاں سے منگوا لوں گا اور ملک کے ہر آدمی کے کھاتہ میں 15-15 لاکھ روپئے ڈلوا دوں گا۔ اور اب چار سال ہونے والے ہیں کسی کو روپئے ملنا تو دور کی بات یہ بھی نہیں ہوا کہ وہ کالا دھن پورا یا آدھا وہاں سے آگیا ہوتا؟ 2014 ء میں ہر چیز کی قیمت آج کے مقابلہ میںآدھی تھی لیکن مہنگائی کا اتنا شور تھا کہ جیسے ہر آدمی کی کمر ٹوٹی جارہی ہے نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بنتے ہی مہنگائی ختم ہوجائے گی اس لئے یہ مہنگائی جن جمع خوروں کی وجہ سے ہوئی ہے وہ کانگریس کے لوگ ہیں اور ہم سب کو جانتے ہیں۔ ہم ان کی گردن دباکر سب سامان نکلوا لیں گے جس سے مہنگائی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کو دیکھ کر کہا تھا کہ تمہاری جوانی برباد کردی میں دو کروڑ کو ہر سال نوکری دوں گا اور سب کے اچھے دن آجائیں گے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ بی جے پی کے لیڈر کرناٹک کے لئے کہہ رہے ہیں کہ کانگریس نے اپنے 25 فیصدی وعدے بھی پورے نہیں کئے اور کہنے والے بھول گئے کہ انہوں نے تو ایک فیصدی بھی نہیں کیا بلکہ چرخی اُلٹی چلادی جس سے جس کے پاس جو تھا وہ بھی ختم ہوگیا اور دو کروڑ تو کیا ملک کے ہر نوجوان کو مشورہ دے دیا کہ سڑک کے کنارے پکوڑے تل کر بیچو 300 روپئے روز آمدنی ہوجائے گی۔ اب مدھیہ پردیش میں غریب ووٹروں کے لئے مکان بن رہے ہیں جن کے دروازوں پر وزیراعظم مودی اور وزیراعلیٰ چوہان کے فوٹو لگے ہوں گے جیسے ریلوے پلیٹ فارم پر باپردہ پیشاب گھر بنے ہوتے ہیں اور ان کے دروازوں پر مرد اور عورت کی تصویر کے پتھر لگے ہوتے ہیں۔
کیا الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ کسی حکومت کے ساڑھے چار سال کے بعد یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ بتاؤ تم نے انتخابی منشور میں لکھے ہوئے کون کون سے کام کردیئے اور ان کے ثبوت لاؤ؟ اور اگر وہ جھوٹے تھے تو نیا منشور جوچھپے اس میں چھوٹے ہوئے کاموں کو پورا کرنے کا وقت بتایا جائے اور ان کو بھی منشور میں شامل کیا جائے۔ الیکشن کے آنے سے پہلے حکومت بڑی بڑی اسکیموں کے سنگ بنیاد رکھ دیتی ہے اور الیکشن کے بعد ان پتھروں کو گاؤں والے اکھاڑکر لے جاتے ہیں اور گھروں میں کپڑے دُھلتے ہیں کوئی تو ایسا ہونا چاہئے کہ جھوٹوں کو سزا دے وہ چاہے جتنی ہلکی ہو۔
کرناٹک میں کانگریس سے معلوم کیا جارہا ہے کہ تم نے گذشتہ پانچ برسوں میں کیا کیا اور کیا نہیں کیا؟ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو پارٹی معلوم کررہی ہے اس کے گلے میں چار سال کی فہرست ٹنگی ہے اور کرناٹک کی کانگریس اس سے معلوم کررہی ہے کہ آپ نے کیا کیا؟ جبکہ یہ بات سب تسلیم کررہے ہیں کہ کرناٹک میں کام ہوا ہے اور یہ بات پورا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ نریندر مودی نے تو نوٹ بندی میں سب کو ننگاکر دیا اور جی ایس ٹی کے ذریعہ کاروبار والوں کو برباد کردیا اور اس کے بعد بھی یہ ضد ہے کہ 2019 ء میں حکومت ہماری بنواؤ۔ غیب کا علم تو پروردگار کو ہے لیکن مودی جی کو داد دینا پڑے گی کہ وہ آج بھی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگا رہے ہیں جبکہ انہوں نے ملک کے اکثر آدمیوں کا ستیاناس کردیا اور جب بہار میں ان کے دست راست امت شاہ نے کہا کہ وہ 15 لاکھ والی بات انتخابی جملہ تھا یعنی وہ تو مودی جی نے ملک کو بے وقوف بنانے کے لئے کہا تھا اس کے بعد بھی وہ چپ رہے اور تسلیم کرلیا کہ وہ جھوٹے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے جس طرح خرچ پر اور ووٹ مانگنے کے طریقوں پر پابندی لگائی ہے اسی طرح انتخابی منشور پر پابندی لگانا چاہئے کہ آسمان سے تارے توڑکر ووٹروں کے گھروں میں روشنی کرنے کا وعدہ اگر کیا اور جیتنے کے بعد پورا نہیں کیا تو انتخابی نشان کینسل کردیا جائے گا وہ مودی جی جو سب کا ساتھ سب کا وکاس کی مالا جپتے تھے وہ پھر وہی مالا جپ رہے ہیں اور کوئی یہ معلوم کرنے کی ہمت نہیں کرتا کہ بیکاروں کو روزگار دینا تو الگ رہا آپ نے تو روزگار سے لگے ہوئے لوگوں کو بیکار کردیا اور پھر ووٹ مانگنے دروازہ پر کھڑے ہیں؟