اف رے یہ حالات اور قائدین کے غیر ذمہ دارانہ بیانات

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی

اس وقت ملک عزیز اور ہندوستانی مسلمان تاریخ کے نہایت سیاہ بدترین اور مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر اس طرح کے حالات آتے رہے ہیں لیکن اس وقت مسلمان جس کسمپرسی اور ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں ایسی سخت حالت اور مشکل پوزیشن کا مسلمانوں کو اس سے پہلے سامنا نہیں تھا ۔ مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو پر ان کی بہن بیٹیوں کی عصمت پر ان کے تعلیمی و ثقافتی اداروں پر حملے اس کثرت سے ہو رہے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی ہندوستان ہے جس پر علامہ اقبال مرحوم نے بھی فخر کیا تھا اور کہا تھا :
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

ہمارا یہ ملک ایک جمہوری ملک تھا جہاں سارے مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق دئے گئے تھے جہاں مذہب کی، زبان کی، تہذیب و ثقافت کی اور فکر و خیال کی آزادی دی گئ تھی جہاں مختلف مذاہب کے لوگ باہم شیر و شکر ہو کر رہتے تھے ایک دوسرے کے دکھ درد اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں لوگ شریک ہوتے تھے ۔
ہمارے پرکھوں نے اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے اور ان کے ناپاک سائے سے آزاد کرانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دی لاکھوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں باشندوں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کا بڑا حصہ گزار دیا تھا ۔ ان لوگوں کا اور ہمارے ان پرکھوں کا صرف ایک خواب دیکھا تھا کہ اس ملک میں ذات ،برادری ، مذہب اور علاقہ رنگ و نسل زبان و تہذیب کی بنیاد پر کوئ تفریق نہیں ہوگی ۔ یہاں گنگا جمنی تہذیب میں ہر مکتب فکر اور مذاہب کے لئے آزادی ہوگی اور اسی اعتبار سے یہاں کے آئین کو تیار اور نافذ کیا گیا تھا ۔ ہمارا یہ ملک عزیز دنیا کے نقشے میں ایک ایسا ملک تھا جسے جنت نشاں اور سارے جہاں سے اچھا کہا جاتا تھا ۔
لیکن آج اس ملک پر کی کسی کی نظر بد لگ گئی اور حالت یہ کہ اس ملک کی وہ تمام روایات اور خصوصیات جس پر ہندوستانی کو فخر تھا یک لخت بدل گئے اور پھر حالات نے اس طرح کروٹ لی کہ اس ملک میں اقلیتوں کے لئے اور خصوصا مسلمانوں کے لئے آج زندگی گزارنا دو بھر ہوگیا ہے ۔
آج مسلمانوں کو دستور میں دئے گئے حقوق سے محروم کرنے کی پوری پلانگ کی جارہی ہے، انہیں مختلف بہانوں سے ملازمتوں سے دور رکھنے کی سازش رچی جا رہی ہے ان کے مذہبی مقامات پر حملے کئے جا رہے ہیں ان کے اقلیتی تعلیمی اداروں پر غلط الزامات لگا کر مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے تعلیمی نظام کے بھگوا کرن کی تحریک چلائ جارہی ہے بعض ریاستوں میں یوگا اور سوریہ نمسکار کو اسکولوں میں لازم قرار دیا جا رہا ہے اذان پر پابندی کی بات کہی جارہی ہے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لئے اجازت کا حکم جاری کیا جا رہا ہے ،ہماری مذہبی شناخت کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے عائلی مسائل اور شریعت کے قانون میں مسلسل دخل اندازی کی جا رہی ہے ۔ غرض مسلمانوں کے لئے عرصئہ حیات تنگ کرنے اور اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ اسپین و اندلس کی تاریخ دہرانے کی پوری پلانگ کی جا رہی ہے اور ہم مسلمان آپسی انتشار و خلفشار کا شکار ہوکر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں اور موضوع سے ہٹ کر بے موضوع گفتگو اور بحث میں الجھ رہے ہیں ۔
دو مئی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جس انداز سے ہوا وہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور ایسی گھناونی اور اوچھی حرکت کرنے والوں کو جتنا کوسا جائے کم ہے ۔
لیکن افسوس ہے مسلمانوں کے ان قائدین پر جنہوں نے موضوع کیا تھا اور موضوع کیا بنا دیا حالات کو قابو میں لانے کے لئے کوششیں کیا کرنی تھیں اور بیانات کیا دے رہے تھے حکومت وقت سے آنکھیں ملا کر جمھوری انداز میں حکومت کو اس غلط روئے پر احساس دلانا تھا لیکن باتوں اور بحث کا رخ کسی اور طرف پھیر دیا گیا ہمارے بعض بے شعور اور کم فہم نئے فارغین مدارس اور یونیورسٹی جن کو لکھنے کا سلیقہ بھی ہے دیوبند کی اور بعض علی گڑھ کی تعریف و قصیدہ و تسبیح خوانی میں لگ گئے کسی نے لکھا کہ اگر سو دیوبند ہوجائے تب بھی وہ علی گڑھ کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ کسی نے کہا علی گڑھ کی بنیاد ہی غلط ہے اور اس کے بانی ہی عقیدہ اور نظریات کے اعتبار سے کمزور تھے وہ نام کے مسلمان تھے ۔ بعض مذہبی قائدین نے متحدہ قومیت اور دو قومی نظریہ کی بے وقت اور بے محل بحث کو چھیڑ دیا اور یہاں تک بے تکا بیان دیا کہ ہمارے اکابر کا جناح سے اختلاف تھا وہ ان کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اس کی تصویر ہٹا دینا ہی دانش مندی کی بات ہے ۔ لیکن انہوں نے اس واقعہ پر جس طرح کی ناراضگی اور رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے نہیں کیا ان کو یہ بھی بیان دینا چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ سے اور دیگر مقامات سے بھی ان کی تصویریں ہٹا دینی چاہیے جناح ہاوس کو بھی مسمار کر دینا چاہیے تاریخ کی جن کتابوں میں ان کا نام و کردار ہے کھرچ کھرچ کا مٹا دینا چاہیے ۔
میں خود مطالعہ کی روشنی میں متحدہ قومیت کے حامی علماء کرام کی فکر اور ان کے نظریے کا حامی ہوں اور ان کے فیصلہ کو ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل لئے بہتر سمجھا ہوں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ علماء کرام جو دو قومی نظریہ کے حامی تھے ان کے خلاف دشنام طرازی کروں یا ان پر غلط تبصرہ کروں کیونکہ وہ بھی مخلص تھے اگر چہ ان کا نظریہ اور ان کی فکر اور ان نظریات مسلمانوں کے مستقبل کے لئے مفید ثابت نہیں ہوئے اور تقسیم کا منفی اثر مسلمانوں پر پڑا ۔
اس وقت موضوع بحث وہ نہیں ہے جس پر ہمارے بہت سے قائدین اور دانشور بحث کر رہے ہیں بلکہ مسئلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی حفاظت کی اس جامعہ کے وجود و بقا کی وہاں کے طلبہ کے مستقبل کو سنوانے اور بنانے کی اور ہندوستانی مسلمانوں کے اس مرکز علم و فن کی سلامتی کی ہے اس لئے ہماری ساری توانائ اور انرجی اس پر خرچ ہو نہ کہ غیر ضروری بیانات پر ،ہم حکومت کے سامنے یہ ثابت کریں کہ جو کچھ ہوا یہ غیر جمھوری عمل تھا اس سے ہندوستان کی جگ ہنسائی ہوئ ہے یہ ملک دوسروں کی نظر میں رسوا اور بدنام ہوا ہے اور ہو رہا ہے ، اس وقعہ سے ملک کے بارے میں غلط پیغام گیا ہے آیندہ ایسا غیر جمھوری عمل نہ ہو ۔ ہمارے قائدین حکومت وقت سے مذاکرہ کریں کہ طلبہ کے امتحانات کا وقت ہے جن کو موخر کر دیا گیا ہے اس سے ان کا فیوچر خراب ہو رہا ہے ۔ حکومت وقت اس پر سنجیدہ ہو خاطی اور مجرم کو کیفر کرادر تک پہچائے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
میں مبارک باد دیتا ہوں اور اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ بعض صاحب قلم نے اس موضوع پر بہت مفید تحریریں لکھیں اور بہترین لائحہ عمل پیش کیا جن میں مولانا ندیم الواجدی ، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور سمیع اللہ خاں ندوی سر فہرست ہیں ۔
ہمارے طلباء عزیز صبر حوصلہ اور ہمت سے کام لیں اپنے اساتذہ کے مشوروں کا احترام کریں انشاءاللہ بہت جلد حالات بدلیں گے ۔