اسماء پبلک اسکول ڈومریا کا الوداعی پروگرام اور طلبہ و طالبات کا تعلیمی مظاہرہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

طلبہ و طالبات کے اس الوداعی پروگرام میں جن طلبہ و طالبات نے امتیازی نمبرات حاصل کئے ہیں انہیں انعامات سے بھی نوازا گیا جس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے……طالب علم محمد سجاد بن محمد عالم ساکن ڈومریا

 

دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ آشکارا بنت محمد مقیم ساکن ڈومریا

اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ حنا پروین بنت پرویز عالم ساکن جھروا

نمائندہ خصوصی خیالات ڈاٹ کام
( ارریا ) ڈومریا میں واقع اسماء پبلک اسکول کا الوداعی تعلیمی مظاہرہ اسکول کے کیمپس میں منعقد ہوا جس میں طلبہ و طالبات نے سال بھر کی کارکردگی کو اپنے مظاہرہ کی شکل میں حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ واضح رہے کہ تقریباً تین سال پہلے اس اسکول کا قیام عمل میں آیا اور اب تک بخیر و خوبی کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری ہے ۔ مذکورہ پروگرام میں چیف گیسٹ کی حیثیت سے ظفر عالم مقیم چنئی استاذ “اسلامک انٹر نیشنل اسکول چنئی” نے اور تمام اساتذہ کرام اور معلمات نے شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت حالات انتہائی خراب ہیں طلبہ و طالبات کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ایسے میں ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی آبیاری کا کام کرے اور مجھے خوشی ہے کہ اسماء پبلک اسکول ڈومریا کے ڈائریکٹر شاہ نواز عالم صاحب اس کام کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ اسکول کے پرنسپل جناب ایم ڈی مکرم صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ نے طلبہ و طالبات کا جو تعلیمی مظاہرہ دیکھا ہے یہ یہاں کے اساتذہ کی کوششوں کا ثمرہ ہے ۔ یہاں کے پورے اسٹاف نے جس محنت کے ساتھ طلبہ کو تیار کرنے کی کوشش کی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ جناب پرنسپل صاحب نے خصوصی طور پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے اس اسکول میں دو ٹیچرس ایسے بھی ہیں جو روزانہ بلا ناغہ ایک گھنٹہ کی مسافت طے کر کے ارریا سے یہاں آتے ہیں اور طلبہ و طالبات کی مستقبل کی فکر میں ہمہ تن لگے رہتے ہیں چنانچہ آخر میں ان دونوں کا نام (سندر لال یادو اور وجے کمار سر، ارریا ) لیتے ہوئے کہا کہ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ پورے اسکول کو اس پر ناز ہے کہ ہمارے یہاں ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ ہم ہر لحاظ سے بہتر سے بہتر کریں تاکہ اسکول کا معیار روز بروز اعلیٰ سے اعلیٰ تر ہوتا جائے۔
مس آفرین صاحبہ نے اپنے مختصر سے خطاب میں بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک شعر پڑھا….
” اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن”
اور پھر اس کی ترجمانی کرتی ہوئی رخصت ہوگئیں.
خیالات ڈاٹ کام کے منیجنگ ڈائریکٹر عبید الرحمان عقیل ندوی نے کہا کہ اس وقت اسلامک اسکول کے نام پر بہت سارے ادارے قائم ہو رہے ہیں لیکن وہاں نہ ہی دین ہے اور نہ ہی دنیاوی تعلیم…. جس پر کچھ یوں فرمایا
” لم یرض الرب ولم یرض الصنم
الی ھؤلاء ولا الی ھؤلاء ”
آج جس کی وجہ سے بہت سارے والدین نالاں ہیں۔ ایک طرف نہ انہیں مکمل اسلام پڑھایا جارہا ہے اور دوسری طرف انہیں عصری تعلیم بھی نہیں دی جارہی ہے ۔ ایسے میں جناب شاہ نواز عالم صاحب نے جس اسلامک اسکول کو قائم کیا ہے اس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ ان شاء اللہ العزیز یہاں دین و دنیا کی مکمل تعلیم دی جائے گی تاکہ دونوں جہان کے بارے میں یہاں کےفارغ مکمل آگہی رکھ سکیں، انہوں نے کہا کہ ’’میری یہ دعا ہے کہ یہ ادارہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا بہار کا مثالی ادارہ بن جائے جس کی مثال ہر خاص و عام کے لبوں پر ہو ۔ اس کے علاوہ اسکول کے رفقاء کی جانب سے پوری امت مسلمہ کو عید سعید کی مبارک باد بھی پیش کی گئی اور پھر مجلس کا اختتام دعا پر ہوا.

اپنا تبصرہ بھیجیں