اسلام کے قلب وجگر پر حملے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

اشفاق احمد القاسمی
معھد الکتاب والسنہ نوادہ

شروع سے ہی اسلام کے قلب و جگر اور اسکے اعصاب پر ایسے حملے ہوئے ہیں کہ دوسرا مذہب ان کی تاب نہیں لاسکتا ۔دنیا کے دوسرے مذاہب جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دنیا فتح کرلی تھی ۔اس سے کم درجہ کے حملوں کو سہار نہ سکے اور انہوں نے اپنی ہستی کو کم کردیا ۔لیکن اسلام نے اپنے ان سب حریفوں کو شکست دی اور اپنی اصلی شکل میی قائم رہا۔ایک طرف باطنیت اور اسکی شاخیں اسلامی روح اور اسکے نظام عقائد کیلے سخت خطرہ تھیں۔دوسری طرف مسلمانوں کو زندگی سے بے دخل کرنے کیلے صلیبیوں کی یورش اور تار تاریوں کا حملہ بالکل کافی تھا ۔دینا کا کوئی دوسرا مذہب ہوتا تو اس موقع پر اپنے سارے امتیازات کھودیتا اور ایک تاریخی داستان بن کر رہ جاتا ۔

لیکن اسلام ان سب داخلی و خارجی حملوں کو برداشت کر کے گیااور اس نے نہ صرف اپنی ہستی قائم رکھی بلکہ زندگی کے میدان میی نئی نئی فتوحات حاصل کیں۔تحریفات،تاویلات ،بدعات ،عجمی اثرات ،مشرکانہ اعمال ورسوم ، مادیت ،نفس پرستی ، تعیشات الحاد ولادینیت اور عقلیت پرستی کا بار ہا حملہ ہوا اور کبھی کبھی محسوس ہونے لگاکہ شاید اسلام ان حملوں کی تاب نہ لاسکے ،اور ان کے سامنے سپر ڈال دے۔لیکن امت مسلمہ کی ضمیر نے صلح کرنے سے انکار کردیا اور اسلام کی روح نے شکست نہیں کھائی ۔ہر دور میی ایسے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے تحریفات و تاویلات کا پردہ چاک کردیا۔

حقیقت اسلام اور دین خالص کو اجاگر کیا،بدعات اور عجمی اثرات کے خلاف آواز بلند کی،سنت کی پرزور حمایت کی،عقائد باطلہ کی بے باکانہ تردید اور مشرکانہ اعمال ورسوم کے خلاف اعلانیہ جہاد کیا۔مادیت اور نفس پرستی پر کاری ضرب لگائی تعیشات اور اپنے زمانہ کے مترفین کی سخت مذمت کی اور جابر سلاطین کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔عقلیت پرستی کا طلسم توڑ اور اسلام میی نئی قوت و حرکت اور مسلمانوں میی نیا ایمان اور نئی زندگی پیدا کردی۔یہ افراد دماغی ،علمی،اخلاقی اور روحانی اعتبار سے اپنے زمانہ کے ممتاز ترین افراد تھے ۔طاقتور اور لاویز شخصیتوں کے مالک تھے ۔جاہلیت اور ضلالت کی ہرنئی ظلمت کیلے ان کے پاس کوئی نہ کوئی ید بیضا تھا ،جس سے انہوں نے تاریکی کا پردہ چاک کردیا۔اور حق روشن ہوگیا ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو اس دین کی حفاظت اور بقاء منظور ہے ،اور دنیا کی رہنمائی کا کام اسی دین اور اسی امت سے لینا ہے اور جو کام وہ پہلے تازہ نبوت اور انبیاء سے لیتا تھا اب رسول اکرم ﷺکے نائبین اور امت کے مجددین و مصلحین سے لےگا ۔

اسکے بر خلاف دنیا کے دوسرے مذاہب میی ایسی ہستیوں کی نمایاں کمی نظر آتی ہے جو ان مذاہب نئی روح اور ان کے ماننے والوں میی نئی زندگی پیدا کردیں۔انکی تاریخ میی صدیوں اور ہزاروں برس کے ایسے خلا نظر آتے ہیی جن میی اس دین کا کوئی مجدد دکھائی نہیں دیتا جو اس دین کو تحریفات و بدعات کے نرغہ سے نکالے
۔اس کی حقیقت واضح کرے، اصل دین اور حقیقت ایمان کی طرف پوری قوت سے دعوت دے۔رسوم کے خلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کرے۔مادیت و نفس پرستی کی تحریک و رجحانات کے خلاف جہاد بلند کرنے کیلے کمر بستہ ہوکر میدان میی آجائے اور اپنے یقین، سچی روحانیت اور قربانیوں سے اس مذہب کے پیروؤں میی نئی روح اور نئی زندگی پیدا کردے ۔اسکی سب سے بڑی مثال مسحیت ہے وہ اپنے عہد کے آغاز یعنی پہلی صدی مسیحی کے نصف میی ہی ایسی تحریف کا شکار ہوئی جسکی نظیر اس دور کی تاریخ مذاہب میی کہیں نہیں ملتی،وہ ایک سادہ تو حیدی مذہب سے ایک ایسے مشرکانہ مذہب میی تبدیل ہوگئی جس کو یونانی اور بودھ افکار و خیالات کا مجموعہ کہا جاتا ہے

اشفاق احمد القاسمی