اسلام میں عورتوں کے حقوق

یہ تحریر قسط وار شائع کی جائے گی

اسلام سے قبل عورتوں کی قدیم تاریخ دنیا کی ایسی شرمناک اور دیگر درد انگیز داستان ہے جس کا بد نما داغ انسانیت کی پیشانی سے کبھی مٹ نہیں سکتا   ،کوئی ایسا وحشیانہ فعل نہ تھا جو عورت کے ساتھ روا نہ رکھا گیا ہو ، کوئی ایسی ذلت نہ تھی جو صنف نازک کو برداشت نہ کرنی پڑی ہو ، حد تو یہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم بچیاں زندہ دفن کردی جاتی تھیں ” واذا الموؤۃ سئلت بایّ ذنب قتلت ” کے ذریعہ قرآنی شہادت ہے ، جس طرح مرے ہوئے آدمی کی جائداد ان کے وارثین کی وراثت میں تقسیم ہوتی تھی اسی طرح اس کی بیویاں بھی وراثین کی بیویوں کے طور پر منتقل ہوجاتی تھیں .

انکی زندگی باندیوں اور داشتاؤں جیسی تھی ، اس دنیائے رنگ و بو میں بے شمار مذاہب و ادیان بھی اور ہزاروں مصلحین و فلاسفر بھی پیدا ہوئے ، مگر کہیں عورتوں کو مردوں کے مظالم سے نجات نہ ملی اور ان کے حقوق پامال کئے جاتے رہے ، افسوس کہ مردوں نے اسی آغوش کو زخمی کیا جس میں پرورش پائی . اسی سینہ کو مجروح کیا جس سے ان کا رشتہ حیات وابستہ تھا ، کسی نے ڈائن و جوگن کہہ کر پکارا تو کسی نے ناری و ناگن کا خطاب بخشا ، کہیں گناہوں اور فتنوں کی جڑ قرار پائیں تو کہیں مریم کی صورت میں اللہ کی بیٹی اور سیتا کی شکل میں بھگوان کا روپ دھار کر معبود بن بیٹھی ، الغرض ہر دور میں یہ دنیا عورت کو پہچاننے میں ناکام رہی اور حقوق نسواں کیلئے افراط و تفریط کا شکار رہی ۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں اسلام آیا اور جس اعتدال و توازن کیساتھ عورتوں کی عزت و عظمت ، شان و احترام اور مساوی حقوق کو قائم و واضح کیا ، دنیا کی معلوم تاریخ میں اس کی مثال نہیں ۔
اسلام نے بتلایا کہ عورتیں بھی آدم کی اولاد ہیں اور وہ بھی ہر نیکی و بدی اور جزا و سزا کی حقدار ہیں ، جس طرح مرد اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنے معبود کو راضی کر کے انعام و اکرام کا وارث ہوسکتا ہے ویسے ہی عورتوں کیلئے بھی نیک اعمال کے ذریعہ رب کی خوشنودی اور جنت الفردوس کا دروازہ کھلا ہوا ہے .
” من عمل صالحا من ذکرٍ او انثیٰ وھو مؤمن فلنحیینہ حیٰوۃً طیبۃ ً ولنجزینّھم اجرھم باحسن ماکانو یعملون “

نوٹ : دوسری قسط اگلی اشاعت میں

مجیب الرحمان الندوی
مدرسہ فیض المنت ڈومریا رانیگنج ارریا

اپنا تبصرہ بھیجیں