اسلام میں عورتوں کے حقوق

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

اس موضوع کی آخری قسط
مضمون نگار اس ویب سائٹ کے سرپرست اعلیٰ ہیں .

اسلام نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر رفعت و بلندی عطا کی اور اس کو گھر کی ملکہ قرار دیا …. اس کی فطری و جسمانی کمزوری کو ملحوظ خاطر رکھ کر معاش و معیشت کا تمام تر بار مردوں پر ڈالا.

بیٹی ہے تو باپ پر فرض ہے کہ وہ بیٹی کو روٹی کما کر کھلائے… اگر بہن ہے تو بھائی کا فرض ہے کہ کما کر لائے… اگر بیوی ہے تو اس کا نان و نفقہ شوہر پر فرض ہے… مجاہد مردوں کے برابر جنگی محاذوں کو سنبھالنے…. ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اجرو ثواب امور خانہ داری سنبھالنے اور اولاد کی عمدہ تعلیم و تربیت کرنے میں رکھا…مسجد میں جاکر جماعت کیساتھ نماز پڑھنے والوں کو نیکیاں ملیں گی وہی گھر میں رہ کر نماز پڑھنے والی خواتین کو ملیں گی… .اہل یورپ اور مغرب والوں کی طرح چکی کے دو پاٹوں کی مشقتوں کے مانند خارجی و خانہ داری کی دوہری الجھنوں میں نہیں ڈالا… اور حجاب و پردہ کے حکم کے ذریعہ ایک انمول تحفہ دیکر آبرو باختہ عورتوں کی طرح پارکوں کی رقاصہ اور پوسٹروں زینت بننے سے بچایا .

اسلام میں عورتوں کے یہی وہ متوازن حقوق و مراتب میں جن کو نہ امم سابقہ کے ہادی اور مذہب پورا کرسکے اور نہ آج کے یہ تہذیب وترقی یافتہ اقوام عالم .
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری مائیں اور بہنیں اسلام کے احسان و پیغام کو سمجھیں اور دینداری کی زندگی اختیار کریں کیونکہ ایک اچھے معاشرہ کا دارومدار عورت کی دینداری پر ہے.

ایک دانا فرنگی کے قول پر اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں .”تم اچھی مائیں دو میں اچھی قوم دونگا “

مجیب الرحمان الندوی

مدرسہ فیض المنت ڈومریا