اب مساجد خالی قابل علماء سے دکھ بھری داستان

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از قلم:- وحید الزماں صدیقی
عام عادت ہے کہ رات کو سونے کے وقت موبائل فون بند کرکے سوتا ہوں اتفاق ایسا ہوا کہ آج موبائل بند کرنا بھول ہی گیا ۔۔ رات کے 3:30 بجے اچانک موبائل کی گھنٹی بجتی ہے تو دیکھتا ہوں کہ میرے عزیر دوست رفیق افتاء مفتی عفان سیتاپوری سلمہ کا فون ہے..

عاجز نے بے تکلفانہ انداز میں پوچھا کہ بھائی اتنی رات کو محترمہ کو چھوڑ کر ہمیں کیوں یاد کررہا ہے؟؟ تو جواب میں جب مفتی صاحب یہ جملہ کہا تو آنکھوں سے آنسو روک نہیں پایا کہنے لگے کہ بھائی میرے لئے ایک جگہ تلاش کرو..یا کم از کم فی الوقت تراویح کے لئے کوئی جگہ دیکھو..!! میں نے ان سے پوچھا کہ “کیا ہوا عزیزم ؟؟” آپ تو کتنے عالیشان مسجد کے امام وخطیب ہوا کرتے تھے اور اچانک کیا ہوا کہ آپکو جگہ بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟؟ تو مفتی صاحب کہنے لگے کہ رات کو عشاء کے بعد امیر جماعت صاحب نے اچانک پوچھا کہ مفتی صاحب اس وقت تبلیغ کے آپسی اختلاف میں ہمیں کیا کرنا چاہئے تو انہوں نے حکمت اختیار کرتے ہوئے یہ جواب دیا کہ دیکھو “”شوریٰ کے اکابرین بھی اپنے ہیں اور مرکز نظام الدین کے اکابرین بھی اپنے ہیں دونوں اہل حق میں سے ہیں”” بس اتنا جواب سننا تھا امیر جماعت صاحب اٹھ کر سلام دعا کرکے چل دئے اور سب اپنے اپنے راستہ ہوگئے…
رات کے 12:30 بجے اچانک دروازے پر کسی کا دستک سنتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ
سوال :- کون؟
جواب:- امیر صاحب..

دروازہ کھولنے کے بعد سوالات وجوابات ⬇⬇
مفتی صاحب :- جی امیر صاحب فرمائے اتنی رات کو عاجز کی یاد کیسے آئی؟؟
امیر صاحب:- اچھا مفتی صاحب آپکا جماعت میں سال لگا؟
مفتی صاحب :- نہیں!
امیر صاحب:- تو کتنا وقت لگا؟
مفتی صاحب :- ایک بار چار مہینہ..
امیر صاحب:- آپکی فراغت کہاں سے ؟
مفتی صاحب :- دارالعلوم دیوبند
امیر صاحب :- تو دارالعلوم میں سال لگائے بغیر سند دے دیتے ہیں؟
مفتی صاحب :- جی ہاں بالکل
امیر صاحب:- وہ کیسے جبکہ مرکز نظام الدین کے اکابرین تمام علماء کے لئے سال کی جماعت کو لازمی قرار دئے ہوئے ہیں.. اور دارالعلوم سال لگائے بغیر کیسے سند دے دیتا ہے؟؟

مفتی صاحب :- اکابر تبلیغ کے اپنے منہج ہیں اور دارالعلوم کا اپنا.. ایک طالب علم دارالعلوم دیوبند میں علم حاصل کرنے کے لئے آتا ہے نہ کہ سال لگانے کے لئے. جنکو سال لگانا ہوتا ہے وہ مرکز نظام الدین سے لگاتے ہیں اور جنکو علم حاصل کرنا ہوتا ہے وہ دارالعلوم پہونچتے ہیں اب جب فراغت حاصل ہوجاتی ہے تو دارالعلوم کا مزاج ہے کہ وہ سند دے دیتے ہیں ۔۔۔
امیر صاحب:- تو کیا دارالعلوم دیوبند لوگ سال لگانے کی تاکید نہیں کرتے؟؟
مفتی صاحب :- بالکل نہیں…
امیر صاحب :- کیوں تاکید نہیں کرتے جبکہ علماء کے لئے سال لگانا ضروری ہے..
مفتی صاحب :- ایک طالب علم جب عالم دین بن جاتا ہے تو اب خود ہی سمجھ سکتا ہے کہ اس کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں.. اس میں دارالعلوم کے اکابر کیا کرسکتے ہیں…
امیر صاحب :- تو آپ سال لگا لیجئے…
مفتی صاحب :- بھائی میرے بیوی بچے ہیں بوڑھی ماں جوان بہن گھر پر ہیں … مجھے اپنی بہن کی شادی کرانے کی فکر ہے والدہ کی خدمت کی فکر ہے بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی فکر ہے.. البتہ میرے لئے سال لگانا ابھی مشکل ہے الله نے چاہا تو آئیندہ دیکھا جائیگا..
امیر صاحب:- آپ نے کہا شوری حق پر ہے ۔۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جبکہ تمام شوری والوں نے امیر کی اطاعت کو چھوڑ کر بغاوت پر آگئے…
مفتی صاحب :- بھائی یہ بڑوں کا معاملہ ہےاسکو سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اسلئے بلاوجہ ان بحثوں میں ہمیں پڑھنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
امیر صاحب:- خیر مفتی صاحب ہمیں سال لگائے ہوئے عالم کی ضرورت ہے جو ہمیں مل گیا ہے… اسلئے آپ اپنے لئے کوئی دوسری جگہ دیکھ لیجئے….
مفتی صاحب :-ابھی اس وقت ہمیں کہاں جگہ ملے گا جبکہ رمضان سامنے ہے…
امیر صاحب:- جاؤ دارالعلوم دیوبند والوں سے پوچھو..

مفتی صاحب :- یہ تو سراسر ناانصافی ہے..
امیر صاحب:- انصاف اور ناانصافی ہمیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تم دیکھ لو…. بس ہماری مسجد ظہر تک خالی کرو یہاں شوریٰ والوں کے بالکل جگہ نہیں ہے…
اب بس کیا جگہ خالی کرنی ہے..

اس قوم کو یہ کیا ہوگیا ہے جو ایسی حرکتیں کرکے عنداللہ مجرم بنتے جارہے ہیں…
الله ہمارے امت مسلمہ کو صحیح سمجھ عطا فرمائے…

اپنا تبصرہ بھیجیں