آپ طالبات کو صحابیات اور رابعہ بصریہ کا رول ادا کرنا ہے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

آپ آئے تو عورت کو عزت ملی

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم* کے وقت (اور اس سے پہلے برسوں سے) سب سے زیادہ جو مظلوم اور ستم رسیدہ طبقہ تھا وہ دو طبقات تھے خواتین اور غلام ۔ ان دو طبقوں کی آفتاب نبوت کے طلوع( ہونے) کے وقت جو حالت اور پوزیشن تھی اگر اس کا تذکرہ کیا جائے تو انسانیت شرم سار ہونے لگتی ہے اور دل و دماغ اس کی منظر کشی سے متاثر ہونے لگتے ہیں ۔

بعض قبیلے ایسے تھے کہ بچی کی ولادت کو نحوست اور اپنے لئے شرم و عار سمجھتے تھے اور بچیوں کے پیدا ہونے پر انہیں زندہ در گور کر دیا کرتے تھے ۔ ان کے ذہن میں یہ منفی تصور تھا کہ اگر لڑکی بڑی ہوگی تو اس کی شادی کرانی ہوگی اور وہ اپنی بچی کا عقد کرکے کسی دوسرے مرد کے حوالے کرے یہ تو اس کے لئے شرم اور عار کی بات ہے وہ کسی کو اپنا داماد بنائیں یہ رشتہ انہیں بلکل پسند نہیں تھا ۔ حیض (ایم سی) کی حالت عرب اپنی بیویوں کو ایک طرح سے کال کوٹھری میں بند کر دیتے تھے اور ان کے ہاتھ کا بنا بنایا کھانا نہیں کھاتے اور نہ ہی ان کے ہاتھ سے پانی پیتے تھے ( آج بھی یہ رواج کیرلا وغیرہ کے ہندوؤں میں پایا جاتا ہے بلکہ بعض ناخواندہ مسلمانوں میں بھی یہ تصور ہے)
حیض کی حالت میں ان کو ڈبو اور بڑے چمچے کے ذریعہ دور سے کھانا پانی دیا جاتا تھا ۔ ان کو غسل کرنے اور کپڑے تبدیل کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔ صرف شوہر ہی ان سے دور نہیں رہتا بلکہ گھر کے سارے لوگ اس حالت میں ان سے کتراتے تھے ۔ اس حالت کو بہت منحوس خیال کرتے تھے۔ دوسری جہالت یہ بھی تھی کہ شوہر کے انتقال کے بعد بیوی ترکہ میں شمار کی جاتی اور بڑے بیٹے کا ماں پر حق بن جاتا اور وہ ماں ہی سے شادی کر لیتا تھا ۔ اس طرح بے شمار گندگی اور جہالت تھی جس کا تذکرہ زبان پر لانا ممکن نہیں ہے ۔ عورتوں کو جانوروں کا سا درجہ دے رکھا تھا، میراث میں عورتوں کا کوئ حصہ نہیں تھا، عورتوں کی عزت و حرمت اور شرافت کو اس درجہ مجروح کر دیا گیا تھا کہ ایک خاتون کے کئ شوہر بھی ہو سکتے تھے ۔ اسی لئے اس زمانے کو زمانئہ جاہلیت کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ان کا کھویا ہوا مقام دلایا ۔ ان کی صنفی نزاکتوں کے خیال رکھنے کی بھرپور تلقین کی ۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کی شہادت کے لئے یہی کافی ہے کہ یا تو عورتوں کو گناہ کا دروازہ اور سامان نگ وعار تصور کیا جاتا تھا، اسلام نے ان کو ایسی عزت دی کہ قران پاک میں مستقل ایک سورہ عورتوں سے منسوب کی گئ اور اس کا نام ۰۰ النساء ۰۰ قرار پایا ۔ جب کہ مردوں سے منسوب ۰۰الرجال۰۰ نام کی کوئ سورہ قرآن مجید میں موجود نہیں ۔ ایک پاکباز اور باعصمت خاتون ۰۰ مریم۰۰ کے نام پر ایک سورہ کا نام رکھا گیا ۔ اسی طرح دنیا میں بلکہ آخرت کے اعتبار سے بھی جو جگہ اور گاوں اور شہر سب زیادہ قابل احترام اور بابرکت ہے اس کی نسبت بھی ماں کی طرف کی گئ ہے اور جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے یعنی ۰۰ام القری۰۰ ۔
عورت کے احترام اور ان کے مقام و مرتبہ کی قدر دانی کا اندازہ اس واقعہ سے بھی کیجئے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے تمام نسخوں کو ختم کرکے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف نسخہ تھا جب اس خط والا نسخہ (حجازی لغت والا نسخہ) اور ایڈیشن تیار کروایا تو اس خط عثمانی والا پہلا نسخہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو ہدیہ کیا اور پھر اس کی مدد سے سارے نسخے تیار کرکے عالم اسلام میں بھیجا گیا ۔
ان تمام حقائق اور واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں یہ طبقہ کتنا قابل احترام اور معزز ہے !
عورتوں کی صنفی نزاکتوں کا اسلام میں کتنا خیال رکھا گیا اس اندازہ اس واقعہ سے لگائے کہ ایک موقع پر حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ اونٹ پر اپنی بیوی اور بچوں کو سوار کرکے اونٹ تیز ہکا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک حضرت انجشہ پر دور سے پڑ گئ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا مخاطب کرکے فرمایا :
*یا انجشہ ! رفقا بالقوایر*
انجشہ ان آبگینوں مہ پاروں اور صنف نازکوں کا خیال رکھو ! خبر دار اونٹ کو تیز مت ہکاو ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مستقل شخصیت کی مالک قرار دیا ۔ ملکیت میں تصرف کا پورا حق دلایا،حق نقد و تنقید دیا، ان کی تعلیم و تربیت کے خاص انتظام کیا گیا ،ان کے لئے خصوصی وعظ و نصیحت کی مجلس قائم کی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانےمیں جو خیر القرون تھا عورتوں کو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دی۔ زندگی کا تحفظ دیا اور عزت و وقار اور آبرو کی حفاظت کی نیز عصمت و حیا کی چادر دی ۔

الغرض عورتوں کے جو بھی حقوق (ان کی صنفی نزاکتوں کا خیال کرتے ہوئے) ہو سکتے تھے وہ تمام اسلام نے اور پیغمبر اسلام نے بیٹی کی شکل میں ماں کی شکل میں بہن کی شکل میں اور بیوی کی شکل میں دئے ۔