آپ ائے تو عورت کو عزت ملی

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

تیسری قسط
*محمد قمرالزماں ندوی*
*نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*عورت* کی دوسری حیثیت بیوی کی ہے ،اہل عرب *زمانہ جاہلیت* میں بیوی کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتے تھے ،اس کے ساتھ بدگوئ کرتے تھے ،گالیاں دیتے تھے ،برا بھلا کہتے تھے ،گالی اور دشنام طرازی کا ایک طریقہ اور صورت یہ تھی کہ عرب غصہ میں آکر بیوی سے ۰۰ ظہار۰۰ کر لیا کرتے تھے یعنی بیوی کو ماں بہن سے تشبیہ دیتے تھے ۔ اسلام نے ان تمام چیزوں سے منع کیا اور حکم دیا گیا کہ اگر کوئ شوہر ایسا کرے تو اس وقت تک بیوی کے پاس نہیں جاسکتا جب تک کہ وہ اس کا کفارہ ادا نہ کرلے اور اس کے لئے کفارہ بھی سخت مقرر کیا گیا ۔ جس کے احکام اور دیگر تفصیلات قرآن مجید میں موجود ہے ۔

ایک طرف اہل عرب کا اپنی بیویوں کے ساتھ یہ رویہ تھا اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کا کیا درجہ اور مقام بتایا اور اس کے ساتھ کس طرح پیش آنے کی تلقین کی نیز اس کی صنفی نزاکتوں کا کتنا خیال رکھنے کا حکم دیا آئیے اس کی تفصیلات سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ جس قدر حسن سلوک کی تاکید و تلقین فرمائ اس کی مثال بہت کم ہی کہیں مل پائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر وقت تک بیوی کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاو کی تلقین کی، خطبئہ حجۃ الوداع میں بھی اس جانب توجہ دلائ اور مرض وفات کے درمیان جو نصیحتیں فرمائیں ان میں بھی اس پہلو پر اور اس جانب خاص زور دیا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۰۰ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق و کردار عمدہ ہوں اور عمدہ و بہتر اخلاق رکھنے والا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر برتتا ہو ۔ پھر فرمایا کہ میں تم سب میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر برتاو کرنے والا خود میں ہوں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی جملہ ضروریات شوہر کے ذمہ کر دی ،
اس پہلو سے بھی ذرا غور کیجئے کہ دوسرے کا مال بلا اجازت لینا اور اس کا کھانا ناجائز اور سخت گناہ بلکہ حرام ہے لیکن بیوی کو اجازت دی گئ کہ اگر شوہر باوجود خوش حالی اور مالداری کے خرچ میں تنگی کرتا ہو بخل سے کام لیتا ہو تو ضرورت کی مقدار شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر بھی لے سکتی ہے ۔ اس سلسلہ میں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور واقعہ اور اسوہ ہمارے سامنے ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کسی قدر بخیل آدمی ہیں، ضرورت کے مطابق خرچ بھی نہیں دیتے تو کیا میرے لئے ان کے مال میں سے بلا اجازت کچھ لینا جائز ہوگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچے کی کفالت کی لئے کافی ہوجائے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حق دیا کہ شادی کے بعد بھی والدین کریں ۔ اسے حق دیا کہ وہ جب مناسب سمجھے اپنے والدین سے مل سکتی ہے ان کی خدمت کرسکتی ہے بلکہ اگر بلا اجازت بھی ہفتہ میں ایک بار والدین سے ملنے جاتی ہے تو ان کا یہ ملنا غلط نہیں ہوگا ۔

اہل عرب زمانئہ جاہلیت میں بیوی سے ناراض ہو کر بے تعلق رہنے کی قسمیں کھاتے تھے ۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں ایلاء کہا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح کی غلط باتوں کو ختم کیا اور اگر کوئ شخص نہیں ماتا اور وہ قسمیں کھاتا ہے تو شریعت نے حکم دیا کہ اگر کوئ شخص چار ماہ بیوی سے بے تعلق رہنے کی قسم کھا لے اور اس سے ربط نہ رکھے تو میاں بیوی کے درمیان علحدگی کا حکم دیا جائے گا اور اس طرح دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا ۔
*باقی کل کے پیغام میں*

اپنا تبصرہ بھیجیں