آپ آئے تو عورت کو عزت ملی

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

دوسری قسط

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*کل* کے پیغام میں راقم الحروف نے اسلام میں عورت کا درجہ اور مقام اور اس کو دئے گئے حقوق،اور اس سلسلہ میں *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کا احسان،قربانی اور جدوجہد اس کا تذکرہ تفصیل سے آیا تھا۔
سچائ یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مظلوم و مقہور اور ستم رسیدہ طبقہ کو عزت کا مقام دیا،ان کے جائز حقوق دلائے اور ایک ایسا سماجی قانون اور آئین عطا کیا جس میں عورتوں کی عزت نفس اور شرافت و خوداری کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے ،اور ان کی صنفی نزاکتوں کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے ۔
عام طور پر ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا احسان ہے کہ اس نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات و برابری کا حکم دیا ہے یہ تعبیر اور یہ بات صحیح نہیں ہے اس نے اس سلسلہ میں عدل کا حکم دیا ہے اور عدل کا مفہوم بہت وسیع ہے اس لفظ اور تعبیر میں بہت گہرائ ہے اس کے معانی بہت وسیع ہیں ۔ عدل کا ترجمہ مساوات اور برابری سے کرنا یہ کسی طرح درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ مردوں اور عورتوں کی صلاحیتوں میں قدرتی طور پر فرق واقع ہوا ہے ۔ اس لئے اس فرق کی رعایت کے بغیر دونوں کے لئے ایک طرح کے حقوق و فرائض کو متعین کرنا دانش مندی اور عقل مندی کی بات نہیں ہے ۔
*آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے عورت کو کیا کچھ مقام و مرتبہ عطا کیا اور ان کے حقوق کا کس قدر خیال رکھا یہ موضوع بہت تفصیل طلب ہے اس مختصر پیغام میں اس کو سمیٹنا ناممکن ہے لیکن مالا یدرک کلہ لا یترک بعضہ کے ضابطے کے تحت صرف *بیٹی* ،*ماں* اور *بیوی* کو اسلام نے کیا دیا اس کا مختصرا تذکرہ کروں گا کیونکہ خاندان میں عورت عام طور پر انہیں تین مرحلوں سے گزرتی ہے ،پہلے بیٹی بنتی ہے پھر بیوی بنتی ہے اور اس کے بعد ماں بنتی ہے ۔

عرب بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے ان کی پیدائش کو منحوس سمجھتے تھے ۔ بعض خاندان اور قبیلے کے لوگ تو اتنے سخت دل اور سخت جاں تھے کہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے ۔
اسی لئے *اپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے بیٹی کے مقام و مرتبہ کو بہت بڑھایا ان کی پیدائش کو وجہ مسرت قرار دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش و پرداخت،تعلیم و تربیت اور ان کی نگہداشت کی خاص فضیلت بیان فرمائ ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
جس کی دو بچیاں ہوں اور وہ بہتر طور پر خوش اسلوبی کے ساتھ ان کی پرورش و پرداخت کرے اور بیٹیوں پر بیٹے کو ترجیح و فوقیت نہ دے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انگشت شہادت اور تیسری انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اور وہ جنت میں اتنے قریب ہوں گے، جیسے یہ دونوں انگلیاں، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی صاحب زادیوں کے ساتھ جو سلوک فرمایا جس محبت اور شفقت سے پیش آئے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں ملنی مشکل ہے ۔ روایت میں اتا ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جب آپ سے ملاقات کے لئے آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کھڑے ہوجاتے ،ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ ان کو بٹھاتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے گھر جاتے تو یہی معاملہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی طرف سے ہوتا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو آخری ملاقات حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کرکے جاتے ،واپس آتے تو مسجد میں پہلے تشریف لاتے اور پھر سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف لے جاتے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو بیٹی کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار قرار دیا ۔
حکم شریعت یہ ہے کہ اگر لڑکا عاقل و بالغ ہوجائے اور کمانے کے لائق ہوجائے تو باپ اس کی کفالت سے دست کش ہو سکتا ہے اس کی کفالت کے بوجھ اور ذمہ داری سے برئ الذمہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن لڑکی بالغ ہو جائے تب بھی اس کی پرورش اور کفالت کی ذمہ داری اس وقت تک والد کے کندھے پر رہتی ہے جب تک کے شادی نہ ہو جائے اور اپنے شوہر کے حوالے اور سپرد نہ ہوجائے اور اس کا نفقہ و سکنی کا انتطام شوہر کے ذمہ نہ آجائے ۔ اور خدا نا خواستہ اگر نباہ نہ ہوسکے اور طلاق و جدائگی کی نوبت آجائے یا وہ بیوہ ہوجائے تو پھر دوبارہ اس کی کفالت والدین کے ذمہ آجاتی ہے ۔

لڑکی کے لئے اس کے معیار کے مطابق رشتہ ڈھونڈنا اس کے لئے آگے کی زندگی کا انتظام کرنا نکاح کے فرائض انجام دینا یہ تمام ذمہ داریاں والدین کے حوالے اور سپرد ہیں ۔ اسلام نے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی میراث میں حق دلوایا اگر چہ بعض مصلحت کی بنا پر بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں آدھے کا حق دار قراد دیا کیونکہ کہ بیٹی کو آگے شوہری حق ملتا ہے اور ماں اور بیوی کے طور پر بھی آگے وہ وراثت کا حق دار بنتی ہیں ۔ اور یہ بات ییاد رہے کہ بیٹیاں ان رشتہ داروں اور قرابت مندوں میں ہیں جو کبھی میراث سے محروم نہیں ہو سکتیں ۔
*باقی کل کے پیغام میں*

اپنا تبصرہ بھیجیں