آپ آئے تو عورت کو عزت ملی

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
عورت کی تیسری حیثیت ماں کی ہے ۔ اس حیثیت سے عورت کو اسلام نے جو قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ دیا اس کی مثال کسی بھی مذھب اور سماج میں نہیں ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماں کو جو عزت عطا فرمائ ،شاید اس سے بڑھ کر عزت و احترام ممکن نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ جہاں ازدواجی حقوق میں شوہر سے زیادہ بیوی کا خیال رکھا اور کی تاکید فرمائ ،اسی طرح ماں کے حقوق، باپ کے مقابلے میں زیادہ رکھے اور ماں کی فضیلت زیادہ بیان کی ،آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ماں کے قدموں کے نیچے باغ و بہشت (جنت ) ہے اور باپ کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت کا دروازہ ہے ۔
ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ!
میرے حسن سلوک اور میری خدمت کا سب زیادہ مستحق اور حقدار کون ہے ؟
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں تین مرتبہ ماں کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں ،اور چوتھی بار میں باپ کا ذکر کیا، اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں ماں کا درجہ کتنا اونچا اور بلند ہے ۔

انسان پر ضروری ہے کہ وہ ماں اور باپ دونوں کی کفالت کرے اور ان کے معاش اور ان کے نفقہ کی ذمہ داری اپنے کندھے پر لے اگر وہ محتاج اور ضرورت مند ہیں، لیکن اگر کوئ شخص ان دونوں میں سے صرف ایک ہی کی کفالت کر سکے اور ان میں سے ایک ہی کا نفقہ برداشت کر سکے تو فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ماں کی کفالت اس صورت میں واجب ہوگی اور اس کی ضروریات مقدم ہوں گی ۔
اسلام نے ماں کے حقوق کی اتنی اور اس درجہ رعایت رکھی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایمان لے آئے، لیکن ان کی والدہ نے اسلام قبول نہیں کیا، ایمان نہیں لائیں اور بیٹے سے ماں نے پوچھا کہ تمہارے رسول اور پیغمبر ماں کے ساتھ کیسے برتاو اور سلوک کا حکم دیتے ہیں ؟ اس صحابی رسول نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہتر اور نیک سلوک و برتاو کا حکم اور تاکید فرماتے ہیں، روایت میں آتا ہے کہ ان کی والدہ نے خورد و نوش (کھانا پینا) ترک کر دیا اور کہا جب تک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان سے باز نہیں آتے میں کھانا نہیں کھاوں گی ،صحابی رضی اللہ کے لئے یہ صورت حال بہت ہی مشکل اور پریشانی کا باعث تھی ،وہ صحابی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی اور مشکل کا اظہار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی بر قراری بھی ضروری ہے اور والدہ کو کھانا کھلانا بھی، روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے بعد وہ صحابی ایک دو وقت فاقہ کے بعد جبرا والدہ کو کھانا کھلاتے اور ان کی ہر طرح کی کڑوی کسیلی اور کھری کھوٹی کو برداشت کرتے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا دیا کہ اگر ماں باپ ظلم بھی کریں پھر بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک اور بہتر معاملہ کرو ۔ ہاں خلاف شریعت باتوں میں ان کی اطاعت و فرمانبرداری نہیں کی جائے گی ۔ کیوں کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت درست نہیں ہے ۔ لا طاعت لمخلوق فی معصیت الخالق۔
شریعت نے وراثت میں جس طرح بیوی اور بیٹی کو حصہ دار اور شریک و سہیم بنایا ہے ماں کو بھی حصہ دیا ہے ۔ حکم شریعت یہ ہے کہ اگر اولاد کا انتقال ماں کی زندگی میں ہو جائے تو اس کے ترکہ میں سے ماں کو بھی حصہ دیا جائے ۔ اور ماں بھی ان ورثاء میں سے ہے جو کسی دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی کی وجہ سے ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتی ۔

خلاصہ یہ کہ اسلام نے عورت کو عزت و احترام اور قدر و منزلت کے جس مقام پر پہنچایا اور خاص طور پر ماں کی شکل میں اسلام نے جو عزت و رفعت ان کو عطا کی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جس اہتمام اور تاکید کے ساتھ ماں کے حقوق کی طرف توجہ دلائ اس بڑھ کر کسی مذہب اور سماج نے عورت کو ایسی عزت و احترام اور رفعت و بلندی نہیں دی ۔
عورت کے حوالے سے ان سنہری تعلیمات کے باوجود جن کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں نے عملا برت کر دکھایا اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اسلام عورت کے معاملے میں امتیازی رویہ اور سلوک کا معاملہ کرتا ہے تو گویا وہ تنگ نظر اور متعصب ہے اور وہ انصاف اور حقیقت پسندی کی عینک سے نہیں بلکہ تنگ نظری اور عناد کی عینک سے چیزوں اور ثابت شدہ حقیقتوں کا مشاہدہ کر تا ہے ۔