آپ آئے تو عورت کو عزت ملی

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

چوتھی قسط
محمد قمرالزماں ندوی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیویوں کے ساتھ لطف و کرم اور الفت ومحبت کا جو معاملہ فرمایا اور ان کی صنفی نزاکتوں کا جس درجہ اور جس حد تک خیال رکھا تاریخ انسانی میں اس کی کوئ مثال اور نظیر نہیں ملتی ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* کا عام سلوک اور برتاو اپنی ازواج مطہرات (پاک بیویوں) کے ساتھ نہایت شفقت و درگزر لطف و کرم اور بے تکلفی کا تھا ،بعض اوقات *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی ازواج میں سے کوئ کسی بات کا جواب دے دیتیں تو *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* اس کا برا نہیں مانتے ،مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کا ازواج مطہرات کے ساتھ بے تکلفی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :
جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تب بھی میں اس کا اندازہ کر لیتا ہوں اور جب ناراض ہوتی ہو ،جب بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور اس طور سے کہ جب ناخوش ہوتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو *برب ابراھیم* ابراہیم کے رب کی قسم اور جب خوش ہوتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو *برب محمد*
محمد کے رب کی قسم ! عائشہ رضی اللہ عنہا ہنسی اور فرمایا کہ یہ صرف زبان کی حد تک ہوتا ہے ،ورنہ دل میں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جلوہ فرما ہوتی ہے ،اس سے اندازہ کیا جا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ کس خوش مزاجی اور دلداری کا معاملہ فرمایا کرتے تھے ۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی دلبستگی کے لئے اور ان کے مزاج کو فرحت و تازگی بخشنے کے لئے کبھی کبھی رات میں ماضی کے سچے اور اچھے واقعات بھی سناتے تھے ام زرع والا واقعہ تو مشہور و معروف ہے جس کا تذکرہ احادیث کی کتابوں میں موجود ہے ۔
*ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا* حرم مبارک میں آئیں تو کم عمر تھیں ، ان کی اس کم سنی کا آپ نے ایسا خیال رکھا کہ خود کھڑے ہوکر حبشیوں کا کھیل دکھایا اور جب تک تھک نہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں تھی تو ان کے پہلے شوہر کے کئ بچے یتیم ہوکر آپ کے ساتھ تھے لیکن حضرت سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ان بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا سلوک کیا کہ ان بچوں کو کبھی آپ نے یتیمی کا احساس ہونے نہیں دیا اور خود حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خود کبھی ان یتیموں کے وجود کو اپنے لئے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے بار خاطر نہیں سمجھا ۔
بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق شگفتہ مزاجی سے پیش آنا اور اس کے ساتھ کھیل کود میں کبھی کبھی مقابلہ بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا پہلی بار آپ جیت گئے اور پھر دوسرے موقع پر مقابلہ ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں اور وہ جیت گئیں واقعہ یہ تھا کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری تھا آپ موبدن اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پھرتیلی اور تیز رفتار تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو معاملہ برابر سرابر ہوگیا ۔

بیوی کو روپیے پیسے دے دینا زیورات سے ان کو اراستہ کر دینا اور زیورات و ملبوسات میں نہا دینا مالدار اور روپیئے پیسے والوں کے لئے کچھ دشوار نہیں، لیکن گھر کے باہر اتنی مصروف و مشغول زندگی ہو اور کاموں اور ذمہ داریوں کے بوجھ بندھے ہونے کے باوجود قدم قدم پر پر جذبات و احساسات کی یہ پاسداری اور مزاج کی ایسی رعایت آسان نہیں ہے ۔
یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال تھا اور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر باہر کی زندگی میں پوری انسانیت کے لئے سب سے عظیم نمونہ اور آدئیل ہیں داخلی اور گھریلو زندگی میں بھی اسی قدر آپ سب کے لئے بہترین اور بے مثال اسوہ اور نمونہ ہیں ۔
*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

اپنا تبصرہ بھیجیں