آخری عشرہ اور اعتکاف کی قدرومنزلت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

مولانااسرارالحق قاسمی
یوں تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہمیشہ اپنے بندوں پر متوجہ رہتاہے مگر رمضان المبارک کے مہینے میں اس کی رحمت و عنایت خاص طورسے ہمارے اوپر سایہ فگن ہوجاتی ہے،مختلف بہانوں سے وہ اپنے بندوں کونوازتا اور اس کی دنیاوآخرت کوسنوارنے کاانتظام کرتا ہے۔ ایک طرف اس مہینے میں فرض روزے رکھنے کا موقع ملتا ہے، دوسری طرف اسی ماہ میں نماز تراویح کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اوراسی مہینے میں شب قدربھی ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے،گویارمضان کامہینہ بے شمار فضائل، برکتوں اورنیکیوں کاحامل ہے۔ جس مہینے میں قرآن کا نزول ہوا ہو، اس کی فضیلت کا کیا ٹھکانہ ہوسکتا ہے،اسی طرح اس مہینے کے تینوں عشروں کی بھی اپنی اپنی فضیلت ہے۔ اگر کسی خوش نصیب انسان نے ماہ رمضان کوپالیا اور اسے رمضان کے تقاضوں کے مطابق گزارلیا تو یہ اس کے لیے بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اس مہینے کو شرعی تقاضوں کے مطابق گزارناچاہیے، زیادہ سے عبادت کرنی چاہیے،ذکر کرکرناچاہیے، تلاوت کلام پاک کرنی چاہیے،ساتھ ہی گناہوں سے پر ہیز کرناچاہیے۔ اس مہینے میں انجام دینے والی عبادتیں اور اعمالِ خیر ہمارے لیے بے شمار اجروثواب اور اللہ کی رضامندی و خوشنودی کا سبب بنیں گی اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ ہمیں اچھے اعمال و عبادات کی توفیق عطافرمائے گا۔
اس وقت ہم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں داخل ہوچکے ہیں،جو نہایت ہی فضلیتوں اور اللہ کی رحمتوں سے معمور عشرہ ہے،اس عشرے میں اللہ تعالیٰ گناہگاروں کے لیے جہنم سے خلاصی کا پروانہ جاری فرماتے ہیں،ہمیں دعاکرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسے خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ایک دوسری خصوصیت اس عشرے کی یہ ہے کہ اس کی طاق راتوں میں سے ایک رات ایسی ہے جس میں عبادت کرنے کا ثواب ہزارمہینوں یعنی اسی سال سے بھی زائد عبادت کرنے کے برابرملتا ہے،ایک تیسری خصوصیت اس عشرے کی یہ ہے کہ اس میں اللہ کے نبیﷺ نے اعتکاف کو مسنون فرمایاہے اور جو شخص اس عشرے میں اعتکاف کرے اس کے لیے بڑے اجر کا وعدہ کیاگیاہے۔”اعتکاف“ کے لغوی معنی ہیں تمام مشاغل سے کنارہ کش ہوکر کسی ایک جگہ پرٹھہرجانا محصورہوجانا،البتہ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص دنیوی علائق و مصروفیات اور اہل و عیال سے علیحدہ ہوکر مسجد میں قیام پذیر ہوجائے۔اعتکاف کی تین اقسام ہیں: (ا) واحب (۲) مستحب (۳) سنت مؤکدہ۔ اعتکاف واجب وہ اعتکاف ہے،جس کی نذ ر مانی گئی ہو یا یہ کہاگیاہو کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اعتکاف کروں گا۔ اب اگر وہ کام پورا ہوگیا تو اعتکاف کرنا واجب ہوگا۔ اعتکافِ مستحب اس اعتکاف کو کہتے ہیں جو رمضان کے اخیر عشرہ کے علاوہ کیا جائے، اعتکافِ سنت مؤکدہ وہ ہے، جو رمضان المبارک کے آخر ی عشرے میں کیا جائے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ایک بار کسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف نہ کر سکے،تو دوسرے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کااعتکاف کیا۔حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ”نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرما یا کرتے تھے،ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف نہ فرماسکے تو اگلے سال آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا“۔(ترمذی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اہتمام کے ساتھ اعتکاف کرنا اس حدیث سے بھی ثابت ہوتاہے،جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرما یا کرتے تھے۔ وفات تک آپ کا یہی معمول رہا اور آپ ؐ کے بعد آپؐ کی ازواج (مطہرات) اعتکاف کا اہتمام کرتی رہیں“۔(بخاری و مسلم)
اعتکاف کے بے شمار فائدے ہیں۔ مثلا یہ کہ بندہ اعتکاف کی حالت میں اللہ سے بہت قریب ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنے بیوی بچوں سے الگ ہوتا ہے، اس دوران دیگر رشتہ داروں سے بھی اس کا تعلق منقطع ہوجاتا ہے اوراسے زیادہ بات چیت کی بھی اجاز ت نہیں ہوتی، بس وہ ہمہ وقت اللہ کے ذکر میں لگا رہتا ہے۔ تلاوت قرآن مجید کرتا ہے، تسبیح پڑھتا ہے اور رضائے الہی کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ عبادت کرتا ہے اور نیکی کے ذخائر جمع کرتارہتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ متقی و پرہیزگا ر بن جاتا ہے کیونکہ اس اثنا میں وہ دنیوی معاملات کو چھوڑ دیتا ہے اور محض اللہ سے تعلق جوڑ لیتا ہے، اس پر خشیت الہی طاری ہوتی ہے،وہ راتوں کو عبادت کرتا ہے، روتا اور گڑ گڑا تا ہے، ہر پل اسے یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ کوئی کام مرضی الہی کے خلاف نہ ہوجائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب انسان کامل طور سے محض اللہ کا ہوکر رہ جاتا ہے تو وہ تقوی کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ او رمتقی وپرہیزگار بن جانا یقینا بڑی حصولیابی ہے، اس لیے کہ اللہ کے نزدیک زیادہ مکرم و افضل وہی ہے جو تقوی اختیار کرنے والا ہے اور خود رمضان کے روزوں کی فرضیت کا مقصد بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بتایاہے کہ بندے کے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔
اعتکاف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس دوران شب قدر کے ملنے کاامکان زیادہ سے زیادہ رہتا ہے۔کیوں کہ شرعی نصوص سے یہ تومعلوم ہے کہ شب قدر آخری عشرے کی کسی ایک طاق رات میں ہے مگر وہ کونسی تاریخ کی رات ہے،اس کا علم اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ظاہر نہیں کیاہے،اب جو لوگ گھر میں رہتے ہیں ان کے لیے اتناآسان نہیں کہ وہ شب قدر کو حاصل کرلیں،کیوں کہ ان کے ساتھ اور بھی مصروفیات ہیں یاکسی اور وجہ سے ممکن ہے وہ اسی رات عبادت نہ کرپائیں جو شب قدرہو،جبکہ اس کے برخلاف اگر کوئی بندہ آخری عشرے کا اعتکاف کر تاہے،تو چوں کہ وہ چوبیس گھنٹے مسجد میں ہی قیام پذیر ہے اوراسے عبادت اور ذکرواذکارکے علاوہ کوئی کام بھی نہیں ہے،نہ اس کے آس پاس اس کے گھر والے اور رشتے دار موجودہیں،تووہ یقیناً پوری فراغت اور اطمینان کے ساتھ عبادت اور ذکرمیں مصروف رہے گا اور جب اس کا یہ معمول ہوگا تو اس رات بھی وہ یہی عمل کررہاہوگا جب شب قدر ہوگی اوراس طرح وہ اس عظیم سعادت سے بہرہ ور ہوسکتا ہے۔اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام کریں،اگر کوئی گھریلو مجبوری یامصروفیت نہ ہوتب توکریں ہی،لیکن اگر مصروفیت ہے بھی تو ہم اپنے کاموں کے معمول کو آگے پیچھے کرکے اس عظیم سعادت کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں۔الغرض اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک میں ہماری مغفرت اور ذرہ نوازی کا ایک سے بڑھ کر ایک انتظام کررکھاہے،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس کا حقدار بنائیں اور رحمتِ الہی کواپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کریں۔یوں تویہ پورا مہینہ ہی نہایت عظیم الشان اور بے شمار فضائل و برکات سے معمور ہے،مگر آخری عشرہ کاتوخیر کیاکہناہے،لہذا ہمیں اس عشرے میں دیگر بے جا مصروفیات کہ بجائے اپنے آپ کو عبادتوں، ذکرواذکار اور تلاوت کلام اللہ میں مصروف رکھنا چاہیے،اس مہینہ کے جاتے جاتے ہم جتنا زیادہ اللہ کے انعامات حاصل کرلیں یہ ہمارے ہی حق میں بہتر ہے،کیوں انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور اگر زندگی رہی بھی تو آیندہ ہماری حالت کیارہے، کیامعلوم،لہذاہمیں زیادہ سے زیادہ اس ماہِ مبارک کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں