آبلے پڑ گئے زبان پر کیا ؟

اے شہیدان قندوز…اے حفاظ قرآن‫‫‫‫‫‫…اے بموں کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے… تم نے سچ کہا… ہاں تمہاری بالکل سچی ترجمانی کی گئی…ہماری زبانوں پر آبلے پڑ گئے ہیں…تو آخر بولیں کیسے؟بلکہ ہماری زبانوں پر ہوس پرستی،زر پرستی،حسن پرستی،کے ان تینوں عناصر نے تالے ڈال رکھے ہیں…ہماری زبان اس لئے نہیں کھلتی کہ کہیں ہمارے مصنوعی آقا ہم سے ناراض ہو کر کوئی قانونی کارروائی نہ کردیں… ہماری زبان اس لئے نہیں کھلتی کہ کہیں ہماری عزت ابن سلمان کی نگاہ میں کم نہ ہوجائے…اے نوعمر شہداء قندوز…

ہماری زبان ابھی مسلکی اختلافات پر بحث کرنے میں لگی ہوئی ہے…ابھی ہم مقلدیت اور غیر مقلدیت،دیوبندیت اور بریلویت،شیعیت اور سنیت پر مناظرہ میں مصروف ہیں،تو آخر تمہارے لئے زبان کھولیں کیونکر؟

یہ بات تم کو معلوم ہی ہے کہ تم مسلمان ہو… اور مسلمان کا خون اس زمین پر سب سے زیادہ سستا ہے…اور شہداء میں صرف تمہاری جماعت تھوری ہے،بلکہ تمہارے شامی بھائ بھی آئے دن موت کی بھینٹ چڑھتے رہتے ہیں…فلسطین تقریبا ایک صدی سے مسلمانوں کا مذبح و مقتل بنا ہوا ہے…لیکن پھر بھی سب خاموش ہیں،جانتے ہو کیوں؟اس لئے کہ تم مسلمان ہو…

شاید کہ تم نے سنا ہوگا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے فرانس میں ایک حادثہ پیش آیا،جس کی مذمت تقریبا دنیا کے تمام ممالک نے کی،بلکہ خود ہندوستان میں جمیعت علماء ہند کے سکریٹری نے اپنی احتجاج درج کرائی،جانتے ہو کیوں؟اس لئے کہ وہ عیسائی تھے،اور عیسائی کی رگوں میں خون نہیں بلکہ ہیرے اور جواہرات دوڑتے ہیں…
ہاں ہاں آبلے پڑگئے ہماری زبانوں پر…تم ہمیں معاف کرنا…ہماری کوتاہیوں اور کمزوریوں کے بارے میں ضرور ہمارے رب سے پوچھنا…بلکہ رب سے درخواست کرنا کہ ان لوگوں کی زمین پر کیا ضرورت جو پہلو میں دل نہیں بلکہ پتھر رکھتے ہیں…پوچھنا ضرور پوچھنا کہ آخر کیوں ہوگئے ایسے مسلمان جن میں مکر ،روباہی،اور دولت کی فراوانی کا جذبہ پیدا ہوگیا ہے‫.

اے شہیدان قندوز…!یقینا تمہاری شہادت ایسی شہادت ہے،جس پر اولیاء اللہ رشک کرتے ہیں،تم ہی اصل جنت کے حقدار ہو،اور تمہارے سلسلے میں قرآن نے بشارت بھی دی ہے…(و لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات بل أحياء عند ربهم يرزقون) کتنے خوش نصیب ہو تم لوگ جو اس آیت قرآنی کا مصداق بن گئے… زہے نصیب! ہم بھی تمہارے ساتھ شریک ہوتے…..!

صدائے دل عمر عادل ندوی لکھنؤ

اپنا تبصرہ بھیجیں